Chapter 1الرحمٰن الرحیم
لگا کہوہ ان لمسوں کی عادی نہیں—یا شاید بہت زیادہ عادی ہے۔۔۔۔۔“شہزادی…”آواز نرم تھی، مگر محتاط۔۔۔۔۔زھرا نے آواز کی جانب دیکھا۔سامنے کھڑی لڑکیاں جھکی ہوئی تھیں،جیسے وہ ہمیشہ سے یہی کرتی آئی ہوں۔۔۔۔۔"لباس حاضر ہے۔۔۔۔۔""آج دربار کا دن ہے شہزادی۔۔۔۔”ملازمہ نے تیار شدہ جوڑے کی جناب اشارہ کیا۔۔۔۔شہزادیوں سہ شاہی جوڑایہ گہرے نیلے رنگ کا شاہانہ لباس تھا ۔۔۔۔جس میں سفید لیس کا نفیس اوپری حصہ۔۔۔۔۔کمر پر سنہری ڈیزائن والا کارسیٹ۔۔۔۔۔اور نیچے سنہری نقش و نگار سے مزین ۔۔۔پھیلتی ہوئی تہہ دار اسکرٹ شامل تھی۔۔۔۔۔۔"اس طرح کا جوڑا پہننا تو اس کا خواب تھا ۔۔۔۔۔تو کیا اس کا خواب سچ ہونے جا رہا تھا ۔۔۔"زھرا نے دل میں سوچا تھا ۔۔۔۔دل ہی دل میں ایک خوشی ابھری ۔۔۔۔وہ خوبصورت جوڑے کو تکنے لگی تھی ۔۔۔جب اچانک سب دھندھلا ہونے لگا۔۔۔۔اسے اپنے کندھے پر کچھ محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔جیسے کوئی اسے ہلا رہا ہو ۔۔۔۔"زھرا ۔۔۔۔۔اٹھو ۔۔۔۔۔اٹھو بچے ۔۔۔۔"جب اس کے کانوں سے ایک آواز ٹکرائی۔۔۔۔اور اچانک زھرا کی آنکھ کھلی ۔۔۔۔۔وہ پھٹی آنکھوں سے تیز دھڑکنوں کے ساتھ سامنے دیکھنے لگی۔۔۔۔جب اسے احساس ہوا وہ اپنے کمرے میں موجود تھی ۔اس نے گہری سانس بھرا تھا ۔۔۔۔۔وہ ابھی بھی پسینے میں بھیگی تھی ۔اور سانسیں تیز تھی ۔۔۔۔۔۔"کیا وہ پھر سے ایک خواب تھا ۔۔۔۔کیا وہ۔۔۔ وہ جوڑا سچ میں ڈالے گی۔۔۔۔۔" زھرا اسی حالت میں لیٹی سوچنے لگی جب اس کے دل میں اس لباس میں خود کو دیکھنے کی حسرت پیدا ہوئی تھی ۔۔۔۔"لڑکیوں اب اٹھ جاؤ جلدی کرو صبح ہو گئی ہے۔"بنتِ بیگم اپنی شہزایوں کو اٹھاتے ہوئے کہنے لگی تھی ۔"ماما تھوڑی دیر اور سونے دے نہ ۔۔۔۔ پلیز۔"سارہ جو اپنی ماں کی ہلکی سی اواز پر اٹھ گئی تھی بولنے لگی۔" کیوں ساری رات کھیت کاٹے ہیں کیا ؟"۔ بنتِ بیگم ان کے سر پر کھڑی ہو کر اونچا سہ کہنے لگی ۔" ماما کل شاپنگ پہ گئے تھے اس لیے تھک گئے اور۔۔۔۔""کتنا بولتے ہو آپ لوگ بس بھی کرو۔۔۔۔میری نیند ہی خراب کر دی ۔۔۔۔" جب زھرا خود کو ممکنہ حد تک نارمل کرتی اٹھتی ہوئی افسردگی سے بولی تھی اسے افسوس ہوا تھا اگر اس کی ماما اسے نہ اٹھاتی تو شاید وہ خود کو اس لباس میں دیکھ پاتی اور پھر اسی افسردگی سےدوبارہ کمبل اوڑھتی لیٹ گئی ۔"نہیں نہیں چلو جلدی کرو شاباش اچھے بچوں کی طرح اٹھ جاؤ دیکھو ملازمہ بھی آ گئی ہیں ۔۔۔۔چلو شاباش اٹھو ۔۔۔۔۔" بنتِ بیگم ان کو اٹھنے کا کہتی کمرے سے نکل گئیں ۔جب وہ دونوں دوبارہ لیٹیں اور فوراً کمرے کا دروازہ زور سے بجا جہاں بنتِ بیگم انہیں گھور رہی تھی ۔"پانچ منٹ میں نیچے آ جانا ۔۔۔" اب کی بار وہ سختی سے بولی تھی ۔جب کہ وہ دونوں ہی اٹھ کر بیٹھ گئیں۔۔۔اور گہری سانس خارج کر گئی۔"اسلام علیکم بابا !" زھرا کچھ ہی دیر بعد فرش ہو کر نیچے آ گئی تھی ۔مگر اس کےچہرے پر افسردگی ویسے ہی قائم تھی ۔"وعلیکم السلام ۔۔۔کیا ہوا ہے میری شہزادی کو ؟ موڈ خراب لگ رہا ہے ۔۔۔۔"عامر صاحب اس کے چہرے سے ہی پہچانتے بولے تھے ۔"ہممم۔۔۔۔آپ کی بیگم صاحبہ صبح صبح ہی اٹھانے آ گئی تھی نیند بھی پوری نہیں کرنے دیتی ہیں ۔۔۔۔"زھرا اپنے بابا سے اپنی ماں کا گلہ کرتی بولی تھی ۔"شہزادی کبھی میری شکایت کے علاؤہ بھی کوئی بات کر لیا کرو۔۔۔"بنتِ بیگم اس کی بات سنتی ڈائننگ پر آتی کہنے لگی ۔"تو ماما آپ بات کرنے کا موقع ہی نہ دیا کریں۔۔۔" زھرا بھی اپنی صفائی میں بولی تھی ۔"امممم ہممم۔۔۔۔"بنتِ بیگم اس کے جواب پر آبرو آچکائے بولنے لگی تو فوراً عامر صاحب بولے ۔"اچھا چھوڑو ۔۔۔۔بس کرو اب دوبارہ ماں بیٹی نہ شروع ہو جانا آپ بتاؤ سارہ کہاں ہے ؟" عامر صاحب فوراً موضوع بدلتے کہنے لگے تھے ۔"بابا وہ شاور لے رہی تھی ابھی آ جائے گی ۔۔۔" زھرا بھی عامر صاحب کے سوال کا جواب دینے لگی جب تینوں آپس میں خوش گپیاں کرنے لگے۔"السلام علیکم بابا! " جب سارہ ڈائننگ کی جانب آتی بولی تھی ۔عامر صاحب نے اس کا جواب دیتے ہوئے حال احوال پوچھا جب سارہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اور سب ناشتہ کرنے لگے تھے ۔"بابا مجھے آپ سے بات کرتی ہے ۔۔۔۔" سارہ دہی کی چمچ لیتی بولی تھی ۔"ہممم۔۔۔۔کہو ۔۔۔۔"عامر صاحب نے اسے بولنے کا اشارہ کیا ۔"بابا وہ میری