Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 25 of 44 57% Completed ~4 min read

انگلی میں ڈالتا اور ایک سادہ سلور انگوٹھی رنگ فنگر میں ڈالتا کالا لیدر کا بیلٹ پہنتا اپنے بھورے بالوں کو چھوٹی پونی میں باندھ کر جس میں سے کچھ بال نکل رہے تھے موبائل اور بیگ اٹھا کر باہر نکلنے لگا ۔" بائے گرینی ۔۔۔۔آئی ول مس یو سو مچ۔۔۔۔" وہ رکتا پیچھے مڑا اور آسیہ بیگم کو آنکھ مارتا آگے بڑھ گیا ۔جبکہ وہ اس کو دیکھتی نفی میں سر ہلاتی آنکھوں سے ہاں کا اشارہ کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔"اچھا ماما اللہ حافظ ، اپنا دھیان رکھیے گا"۔"ہم تم بھی دھیان رکھنا " ۔ زھر ا گاڑی میں بیٹھتے ہوئے جس کا دروازہ ڈرائیور نے کھولا ہوا تھا اپنی ماما سے کہنے لگی اور جواب میں بنتِ بیگم بھی بولی ۔عامر صاحب جو رات کو نیو یارک جانے والے تھے فلحال زھرا کو تھوڑا بہتر فیل کروانے کے لیے اسے صبح صبح یونیورسٹی چھوڑنے کے لیے بولے ۔زھرا گاڑی میں بیٹھ چکی تو گاڑی زن سے بھگا دی۔" تم فکر مت کرنا ۔۔۔میں تم سے مل کر ہی جاؤں گا ۔۔۔۔" عامر صاحب زھرا کو تسلی دیتے بولے ۔" میرا تو دل بہت گھبرا رہا ہے آپ نہ جائیں نہ ۔۔۔" زھرا اداس چہرہ لیے بولی ۔"ایسے کیسے چھوڑ دوں شہزادی ۔۔۔۔۔فکر نہ کرو میں جلد ہی آجاوں گا ۔۔۔۔ایسے اب میں کچھ چھوڑ تو نہیں سکتا نہ ۔۔۔۔" وہ اس کو سمجھاتے بولے ۔"ہممم۔۔۔۔" " زھرا کہتی خاموش ہو گئی وہ سمجھتی تھی مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر روکنے لگی ۔پھر خود کو قابو میں رکھے خاموشی سے بیٹھی رہی جبکہ عامر صاحب بولتے اس کی مایوسی کم کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔"اللہ حافظ ۔۔۔۔خیال رکھنا دل لگا کر پڑھائی کرنا " یونیورسٹی آ چکی تو عامر صاحب اسے ڈراپ کرتے کہنے لگے وہ بھی اپنے بابا کا دل خوش کرنے کے لیے مصنوعی سی مسکراتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی ۔"اسلام و علیکم ! کیسی ہو میں تمہارا کب سے انتظار کر رہی ہوں " ۔ زینب جو کب سے زہرا کا انتظار کر رہی تھی اس کو آتا دیکھ اس کی جانب لپکتی بولی ۔"الحمداللہ ٹھیک ہوں ۔۔۔۔کیوں کر رہی ہو میرا انتظار؟" زھرا جواب دیتے سوال پوچھنے لگی۔"کیونکہ تم میری دوست ہو ۔۔۔۔" زینب نے اتنا ہی جواب دیا ۔"تو میں تمہاری اتنی بہترین دوست بن چکی ہوں کہ تم ہر روز انتظار میں بیٹھو گی میرے۔۔۔۔"وہ آبرو آچکائے پوچھنے لگی۔"ہاں کرنا پڑا تو کر لوں گی۔۔۔۔" زینب بولی ۔"دوستی کی ڈیفینیشن کیا ہے تمہارے لیے ؟" زھرا اسے آبرو آ چکائے پوچھنے لگی ۔"دوست ۔۔۔۔اممم دوستی کی ڈیفینیشن ہے کمفرٹ ۔۔۔۔" وہ سوچ کر بولی ۔"کیسے ؟" زھرا سوالیہ انداز میں اچانک مڑ کر پوچھنے لگی۔"یار اس دوست کا کیا فائدہ جس کے سامنے بیٹھتے ہوئے تمہیں سوچنا پڑے جس کے سامنے بولو تو سوچنا پڑے جس کو ہاتھ لگانے سے پہلے سوچنا پڑے ۔۔۔ دوست تو وہی ہوتا ہے نہ جو آپ کو ایسے قبول کرے جیسے آپ ہو۔۔۔۔۔بڑے،اچھے ،چلبلے،مزاحیہ یا پھر پاگل ۔۔۔دوست تو آپ کو ہر حالت میں ایکسیپٹ کرتے ہیں جو نہیں کرتے وہ دوست تھوڑی ہوتے ہیں ۔۔۔" وہ اسے دیکھتی مسکرا کر بولی۔"تمہیں لگتا ہے میں تمہاری دوست بن سکتی ہوں ۔۔۔۔" زینب زھرا سے پوچھنے لگی ۔"ہاں تم ججنگ پرسن نہیں ہو اتنا کافی ہے ۔۔۔۔۔" وہ صرف اتنا ہی بولی تھی جب اسے پیچھے سے آوازیں آنے لگی ۔کچھ لوگوں کا ایک مجمع اس جگہ جمع تھا جہاں سے آواز آ رہی تھی ۔"یہاں کیا ہوا ہے ؟" زھرا اس طرف دیکھتی بولی ۔"پتہ نہیں ؟" زینب بولی ۔" چلو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔" زھرا بولی اور وہ اس طرف بڑھ گئے ۔جہاں ایک لڑکی کو کچھ لڑکوں نے روک رکھا تھا۔وہ ڈری سہمی ان کے سامنے کھڑی تھی ۔"کیا ہو رہا ہے یہاں ؟" زینب نے پاس کھڑی ایک لڑکی سے پوچھا ۔"یہ لڑکا اس لڑکی کو پرپوز کر رہا ہے مگر وہ لڑکی اس کو پسند نہیں کرتی اور اب وہ اسے فورس کر رہا ہے ۔۔۔" وہ بولی تو زھرا اس لڑکے کو گھورتی آگے بڑھی ۔"کدھر جا رہی ہو ؟" جب زینب اس سے پوچھنے لگی۔"زیادہ کچھ نہیں بس تھوڑا سوفٹویئر اپڈیٹ کرنے۔۔۔۔" زھرا بولی اور آگے بڑھی۔"کیا تماشہ لگا رکھا ہے یہ؟ " زھرا آگے بڑھتی بولی وہ لڑکی کے اطراف میں آ پہنچی تھی۔"اوو۔۔۔دیکھو کون آیا ہے؟

Prev Next Page