Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 6 of 44 14% Completed ~4 min read

جاتے ہیں ۔۔۔۔اور اب آپ کو بیٹی کی یاد واپس لے آئی ہے ۔حیرت کی بات ہے ۔۔۔۔"زھرا ڈائننگ کی جانب جاتے ہوئے تنزیہ کہنے لگی جسے سنتے عامر صاحب مسکرا دیے جبکہ سارہ سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔"ارے میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔تمہاری یاد تو مجھے ہمیشہ آئی رہتی ہے بس جب دور ہوتا ہوں تو نہیں آ سکتا ورنہ فوراً آ جاتا ہوں ۔۔۔۔" عامر صاحب اس کو وضاحت دینے لگے جیسے نہ دی تو ناراض ہو جائے گی ۔"ہونہہ ۔۔۔۔۔" زھرا ان کی بات کر آنکھیں چھوٹی کرتی انہیں دیکھتی منمنائی۔"ایسے ہی آپ اپنی بیٹی کو مکھن لگاتے رہا کریں ۔۔۔۔۔" جب بنتِ بیگم وہاں آتی ملازمہ کو کچھ ہدایات دیتی کہنے لگی ۔"ماما ، آپ بھی کم نہیں ہیں ہمیشہ میری کتابوں کو بڑا بھلا ہی کہتی رہتی ہیں۔"وہ اپنی ماں کی طرفداری کو تاب میں نہ لاتے ہوئے بات کا رخ ان کی جانب موڑنے لگی۔" تم نے کیا کہا ہے ، میری شہزادی کو" ۔ وہ بنتِ بیگم کو گھورتے پوچھنے لگے ۔"میں تو سمجھا رہی تھی صرف ، بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا ۔" وہ ملازمہ کے ساتھ کھانا لگاتے کہنے لگی ۔"ہاں، میری کتابوں کو برا بھلا کہہ کر"۔ وہ چمچ کو ہاتھ میں پکڑ کر خالی پلیٹ میں چلاتے ہوئے بولی۔"کیوں بولتی ہو اس کی کتابوں کو بڑا"۔ عامر صاحب اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنی بیٹی کو منانے کی طرفداری کرتے اس کا ساتھ دینے لگے۔" میں نے تو نہیں کہا ، میں جانتی ہوں کتابیں بڑی نہیں ہوتی ، بس چاہتی ہوں کہ کتابوں سے نکل کر حقیقی دنیا کو دیکھے ، کیونکہ کتابیں بتاتی ہیں ، سیکھاتی ہیں ، آپ کی مرضی عمل کرویا نہ کرو، کبھی آپ صفحہ آگے کر دیتے ہو موڑ کر، تو کبھی یاد آنے پر پھر سے کھول لیتے ہو، مگر حقیقی دنیا آپ کی مرضی نہیں دیکھتی عمل کرنا پڑتا ہے آپ کو ، اور جب سیکھاتی ہے تو ایسا کہ آپ کا زندگی کاوہ صفحہ دوبارہ کھولنے کا دل نہیں کرتا۔۔۔ آپ سیکھ ہی ایسا جاتے ہو"۔ وہ سارا ناشتہ لگا کر اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے (جو آمر صاحب کی کرسی کے دائیں جانب رکھی تھی) آمر صاحب کو پروستے ہوئے کہنے لگی ۔ اور پھر خود کو پڑوس کر کھانے لگی ۔"ماما ، کتابیں ایسا سبق دے دیتی ہیں کہ ہم ایسا کام کرتے ہی نہیں ہیں "۔ زھرا بھی آمر صاحب کے بائیں جانب بیٹھی ناشتہ کرتے ہوئے اپنی دلیل رکھتے بولی ۔"شہزادی ، کچھ لوگ سبق نہیں لینا چاہتے ہوتے اور نظر انداز کرتے ہیں ، لیکن کچھ لوگ جو سیکھ جاتے ہیں ، وہ اس سبق کو الفاظات کی شکل دے دیتے ہیں اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " ۔ وہ کہتے کہتے رکی ۔"مطلب کتابوں میں جو لکھا ہوتا ہے ، وہ کسی کی زندگی کا دیا سبق ہے " سارہ جو دور سے آتی باتیں سن رہی تھی ، بنتِ بیگم کو ٹوکتے بولنے لگی ۔"ہممم ، اس کو ہم تجربہ کا نام بھی دے سکتے ہیں ، اور تجربے کتابوں سے نہیں زندگی سے ملتے، عمل سے ملتے ہیں "۔ وہ اپنی شہزادی کی ہاں میں ہاں ملا کر کہنے لگی ۔"اچھا چلیں نہ چھوڑیں اب اگلے ہفتے سے میں تجربے لینا بھی شروع کر دوں گی"۔ وہ جھنجھلا کر اس ٹاپک کو بند کرنے کا کہنے لگی ۔"اچھا ، چلو پھر جلدی کھانا کھالو، ہمیں مال بھی جانا ہے"۔ بنتِ بیگم اور سب خاموشی سے کھانے لگے ، جب عامر صاحب ٹوپک کو بند کرنے کے لیے بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"ہیی گرینی ۔۔۔۔ آپ کب آئیں ؟ "وہ نوجوان لڑکا فریش ہو کر ہالف بازوؤں والی سیاہ شرٹ جہاں سے بازو پر بنا ٹیٹو نمایاں ہو رہا تھا اور ساتھ سیاہ بینٹ ڈالے سیڑیوں سے نیچے اترتا اپنی نانی کو دیکھ کر خوشی سے بولا۔لمبی گھنی زلفوں کو ایک سٹائل سے سنورا تھا ۔جن میں گرے اور سیاہ دونوں شیڈ واضح ہو رہے تھے جبکہ گرینی اسے دیکھتی نظریں گھما گئی کوئی چیز انہیں اتنا غصہ نہیں دلاتی تھی جتنا ان کے پوتوں کا انہیں گرینی کہنا ۔ان کے مطابق وہ جوان تھی اور دادی لفظ انہیں بلکل نہیں ججتا تھا ۔اس لیے وہ ہمیشہ اس لفظ سے چڑھتی تھی ۔اور وہ بگڑی اولاد انہیں چھیڑنے کے لیے گرینی

Prev Next Page