Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 15 of 44 34% Completed ~4 min read

سے ٹکایا جب ایک ملازمہ پانی کا گلاس لیتی انکی جانب بڑھی ۔ ازرا نے پانی پیا۔"میں تھک چکی ہوں کچھ دیر آرام کروں گی ۔۔۔۔" ازرا کہتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔جب کہ ملازمہ صرف ادب سے سر جھکا گئی ۔عبدالرحمٰن کمرے میں آتا ہی بیڈ پر گرنے والے انداز میں الٹا لیٹا ۔اور اسے احساس ہی نہ ہوا وہ کب سو گیا کیونکہ ڈاکٹر نے دوائیوں میں نیند کی دوائی بھی شامل کی تھی ۔اگلے دن اٹھتے ہی اسے اپنا سر بھاری محسوس ہوا تھا ۔"اب کیسی طبیعت ہے تمہاری ۔۔۔۔" وہ سیاہ ٹراؤزر پر آدھے بازوؤں والی سیاہ شرٹ ڈالتا نیچے آیا تو ازرا پوچھنے لگی ۔"میرا سر درد کر رہا ہے ۔۔۔۔" وہ لاؤنچ کے صوفے پر بیٹھتا بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا اور بھاری ہوتے سر کو صوفے کی پشت سے ٹکا گیا ۔"ہمم۔۔۔۔میں نے آمنہ کو سب بتا دیا ہے وہ تمہیں دوائی دے دے گی ۔۔۔۔وقت پرکھا لینا ۔۔۔۔" ازرا بیگم عبدالرحمٰن سے کہتی اسے نصحتیں کرنے لگی جنہیں وہ سرے سے ہی نظر انداز کر رہا تھا ۔ازرا نے ٹی وی پر ایک گانا لگا رکھا تھا جسے وہ اکثر سنتی تھی ۔"She said,You think the devil has horns ….well so did I"بڑے ہال میں گانے کی آوزیں گونج رہی تھی ۔ مدھم روشنی ،ہلکا سہ شور اور ازرا کی آواز ۔۔۔۔جو عبدالرحمٰن کو سمجھا رہی تھی ۔جسے وہ کب سے نظر انداز کر رہا تھا ۔جب ہال میں بوٹوں کی آواز گونجی تھی ۔ سنگ مرمر پر پڑتی ہوئی بوٹوں کی بھاری آواز ۔۔۔۔جسے سن کر جیسے ہوا بھی تھم گئی ہو ۔۔۔۔"عبدالرحمٰن ۔۔۔۔" اسے اپنے پیچھے سے آواز آئی تھی۔بھاری ،پروقار اور ٹہری ہوئی آواز ۔۔۔۔ عبدالرحمٰن سیدھا ہوا تھا ۔"but I was wrong his hair is comb,he wears suit and tie"وہ مڑا تھا سیاہ تاریک گہری آنکھیں ۔۔۔۔۔ متوازن نقوش،سلیقے سے جمائے گئے سیاہ بال جن پر عمر کی سفیدی چھائی تھی ۔۔۔جسے ہٹانے کی بجائے خوبصورتی کا حصہ بنایا گیا تھا۔۔۔۔سوٹ میں موجود ٹائی اور کے لنک کو سیٹ کرتے ہوئے کیمَر درانی اس کی جانب بڑھ رہے تھے ۔"کیسے ہو اب تم ؟ ازرا بتا رہی تھی تمہیں چوٹ لگی ہے ۔۔۔" نیند میں بھیگی گہری ،دھیمی اور ہر سکون آواز جو غیر ضروری شور سے پاک تھی ۔"he's nice, polite and he'll catch you by surprise"گانا اپنی دھن میں بجے جارہا تھا جیسے اسے کوئی سن نہ رہا ہو جیسے وہ فضا کا حصہ بن چکا ہو جیسے وہ ماحول میں گھل چکا ہو۔کیمر صاحب ازرا کے ساتھ اپنی شخصیت کا رعب خاموشی سے جمائے بیٹھے تھے ۔"ہممم۔۔۔اب ٹھیک ہوں ۔۔۔" عبدالرحمٰن مخصوص انداز میں بولا تھا جیسے اکھڑا لہجہ تو اس کی شخصیت کا حصہ ہو ۔۔۔۔"میں نے کہا تھا نہ باہر اکیلے مت جایا کرو ۔۔۔۔اور ساتھ لے بھی اپنی ماں کو گئے تھے ۔۔۔۔جاتے ہی چوٹ لگوا کر آئے ہو ۔۔۔۔۔کیا ہوتا اگر تمہاری جگہ ازرا ہوتی " اب کی بار ان کا لہجہ قدرے سنجیدہ تھا ۔ عبدالرحمٰن خاموشی سے صرف انہیں سنتا رہا تھا ۔جب ازرا نے انہیں دیکھا تھا اور آنکھوں کے ذریعے کچھ کہا تھا ۔"A smile, so bright ,you'd never bat an eye…""اگلی بار کسی کو ساتھ لے کر جانا ویسے بھی ہمیں تمہاری بہت ضرورت ہے ۔۔۔۔" اب کی بار وہ مسکراتے ہوئے نرمی سے بولے تھے ۔خوبصورت پر کشش مسکراہٹ ۔۔۔۔۔جس میں عبدالرحمٰن کی جھلک دکھتی تھی ۔"ہممم۔۔۔۔۔" وہ صرف سر خم میں ہلا گیا تھا ۔"میڈم ناشتہ تیار ہے ۔۔۔۔" جب ایک ملازم ادب سے سر جھکائے ایک جانب کھڑے ہوئے بولا تھا ۔"ہممم۔۔۔۔ آئیے مس حياتي(میری زندگی)۔۔۔۔" کیمر مسکراتا ہوا کھڑے ہو کر ڈائننگ کی طرف ہاتھ کیے کہتا ازرا کو چلنے کا اشارہ کرنے لگا ۔ازرا مسکراتی ہوئی ڈائننگ ہال میں پہنچی تھی۔عبدالرحمٰن ان کو جاتا دیکھ ان کے پیچھے ہو لیا۔جہاں لمبے ٹیبل پر پلیٹیں اور کرسیاں سجائی گئی تھی ۔اور ناشتہ چنا جا چکا تھا ۔کرسٹل لائٹس ماحول کو پُر سکون اور اطمینان بخش بنائے ہوئے تھی۔کیمر نے سربراہی کرسی کے دائیں جانب کی کرسی کو کھینچتے ہوئے پیچھے کیا جبکہ ازرا کے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کیمر بھی سربراہی کرسی پر آ بیٹھا اور آنکھوں سے ملازم کو اشارہ کیا ۔ملازم چلتا ہوا گول سیڑھیوں کو عبور کر گیا ۔کچھ ہی دیر بعد چھوٹے بالوں والا ایک نوجوان

Prev Next Page