Chapter 1الرحمٰن الرحیم
بچھائے مسکرا کر بولی۔ خواب کا اثر کچھ ختم ہو چکا تھا ۔جبکہ اس کے نیت باندھنے پر سارہ بھی وضو کرنے کے لیے باتھروم میں چلی گئی ۔پوری سوسائٹی میں صرف اس ایک گھر کی بتیاں روشن تھی باقی پوری کائنات جاگ گئی تھی سوائے ان غفلت میں پڑے آنسانوں کے ۔۔۔اس وقت پوی کائنات اپنے بنانے والے کی تسبیح بیان کر رہی تھی ۔بس جہالت میں ڈوبا انسان سو رہا تھا وہ انسان جسے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے۔۔۔۔ہائے میرے رب ۔۔یہ خسارے میں جاتا انسان ۔۔۔۔یہ خسارے میں جاتا انسان۔۔۔۔۔دونوں لڑکیاں نماز پڑھ چکی تھی جب سارہ دوبارہ بیڈ پر لیٹ گئی ۔"ایک کتاب ہے قرآن وہ بھی پڑھ لو۔۔۔اٹھ تو پہلے ہی گئی ہو ۔۔۔۔"اب کی بار زھرا پر سکون انداز میں جائے نماز لپیٹتی کمرے سے باہر جانے لگی اورسارہ سے بولی ۔"لائٹ آف کر کے جانا زھرا ۔۔۔۔" جبکہ سارہ اس کی بات کو تاب میں نہ لاتے ہوئے بولی ۔"خود کر لو ۔۔۔۔"زھرا کہتی کمرے سے باہر نکل گئی جب سارہ جو لیٹ چکی تھی اس نے منہ سے کمبل سے نکالا کمرے میں دیکھا جہاں روشنی قائم تھی اور زھرا بھی موجود نہ تھی تو ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ بھن گئی۔"شہزادی ہو نہ تم تو کہیں کی۔۔۔۔ کام کرنا تمہاری شان میں فرق ڈال دیتا ہے۔۔۔" وہ غصے سے کہتی اٹھ کر بتی بند کرنے لگی جب غصے کی وجہ سے پہلے ہی اس کی نیند اڑ چکی تھی اب اسے نیند کہاں آنی تھی ۔وہ زھرا کو کمرے میں رہ کر ہی بڑا بھلا سنانے لگی وہی بہنوں والی نوک جھوک اور پھر آخر پر قرآن ہی پکڑ کے بیٹھ گئی ۔۔وضو میں تو پہلے ہی تھی اور نیند بھی اڑ چکی تھی تو اب اور کرتی ہی کیا ؟۔۔۔۔۔۔"دھم دھم ۔۔۔۔ڈس ڈس ڈس ۔۔۔۔" رات کا تیسرا پہر تھا۔جب آدھی دنیا سوئی ہوئی تھی اور جو جاگ رہی تھی ان جاگنے والوں کا سونے والوں سے زیادہ نقصان تھا۔یہ اسلام آباد کا ایک قلب تھا جہاں پر زور و شور سے دھن بج رہی تھی جو پورے کلب میں موجود انسانوں کے دلوں میں طوفان برپا کیے ہوئے تھی ۔۔۔۔نفس کا قابو عروج پر تھا اور ہر جان دھن کے مطابق اپنے بدن کو ہلا رہی تھی۔بالوں کو کھلا چھوڑے چھوٹے اور برہنہ لباس ڈالے لڑکیاں کلب میں نفس کو اور ہوا دے رہی تھی ۔مغرب کا سہ ماحول بنائے بغیر کسی شرم اور حیا کہ عجیب و غریب لباس ڈالے ہوئے لڑکے ان کے قریب آتے انہیں چھوتے اور لطف اٹھاتے ۔اسی گناہ کی وادی میں ایک شخص بازوؤں کے بغیر کھلی کالی شرٹ اور کالی پینٹ ڈالے اپنی ہی دھن میں کب سے ناچ رہا تھا ۔۔۔۔لمبے بال اور ایک بازو پر ٹیٹو بنا رکھا تھا جو پوری بازو کو گھیرے ہوئے تھے ۔۔۔۔سفید جسم پر سیاہ ٹیٹو واضح ہو رہا تھا۔پر پھیلائے ،انکھوں میں وحشت بھرے منہ سے آگ نکالتا ڈریگن سب کچھ تباہ کرنے کو تیار تھا ۔۔۔مختصراً وہ شخص حسن کا شاہکار تھا۔جس کی وجہ سے آس پاس بے حد لڑکیاں تھیں جیسے شکر پر چیونٹیاں ۔۔۔۔یہاں لڑکیاں اپنی مرضی سے لڑکے کو چھوتی اور اس کے قریب ہوتی تھی ۔اور لڑکا بدلےمیں تو صرف اپنی ہی دھن میں ناچتا رہتا ۔۔۔۔جب اچانک ایک لڑکی نے اس کے لمبے گھنے بالوں پر اپنے ہاتھ رکھنے چاہے جن پر وہ ہاتھ رکھتی اس سے پہلے ہی وہ لڑکا اس کی کلائی پکڑتا اس کا ہاتھ دور لے گیا اور لڑکی کو اپنی جانب کھینچا ۔۔۔۔۔"No darling….. that's not fun ….."وہ کہتا اسے دور کر چکا تھا اور چیونٹیوں کے جھنڈ سے آزاد ہوتا کاؤنٹر پر آیا۔اس کی حرکت سے کوئی بھی یہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ اس لڑکے کو اپنے بال بہت عزیز تھے کہ کوئی انہیں ہاتھ بھی لگائے یہ اسے گوارا نہ تھا ۔نوجوان لڑکے کے بال اس کی خوبصورتی کا اہم حصہ تھے جنہیں چھونا موت کو آواز دینے کے برابر تھا اسے اپنے بالوں پر کسی کی انگلی تک برداشت نہیں تھی ۔۔۔۔۔(ہوتی بھی کیوں اس نے حالی میں ہی تو اپنے بالوں کا کسٹمائز ہیئر ڈائی کروایا تھا جو کہ ایک عام ملازم کی تنخواہ کے برابر تھا ۔۔۔۔جو اس کے پونی میں بندھے نچلے حصے کو گرے اور اسپرے حصے کو سیاہ دکھا رہا تھا )"One more