Chapter 1الرحمٰن الرحیم
مجھ سے ناراض ہو گیا ، اس لئے اسے منانے کے لیے میں نے وہ بلی اور بلی کا بچہ بھی رکھ لیا ، اور بلی کا نام میں نے میلو اور بچے کا نام چیری رکھا ، اور ریکیوسٹ کی آئیندہ اس چیز سے بعض رہے میں نے بلیوں کا ہوم ایج نہیں کھول رکھا۔" وہ ہنس کر یہ سب بتا رہی تھی۔جس پر زھرا بھی ہنس رہی تھی جب کہ زینب سنجیدہ ہی تھی ۔" اب بس بھی کرو ، اتنی تو بات نہیں تھی اور تم ایک بلے کی لو سٹوری کو ہنسی میں اڑا رہی ہو میرا تو دل کر رہا ہے اس سے ملوں اس نے تو وفا کی داستان رقم کر دی ہے جانور ہو کر وفا نبھائی ہے، ہونہہ۔۔۔۔ ویسے سچ بتاؤں تو اگر تم یہ نہ بتاتی کہ فلوفی ایک بلا ہے تو میں تو کچھ اور ہی سمجھ لیتی "۔ زینب انہیں ابھی تک ہنستے ہوئے دیکھ اکتا کر بولی اور اخر میں نفی میں سر ہلا گئی ۔"جانور تھا اس لیے تو وفادار رہا انسان ہوتا تو کب کا چھوڑ چکا ہوتا ۔۔۔۔"زھرا زینب کی بات پر اینا تبصرہ کرتی بولی اور دوبارہ ہنسنے لگی شائد جانور کی عقل پر یا انسان کی بے عقلی پر ۔۔۔" اب بس بھی کرو، نہ "۔جب ان کی ہنسی نہ رکی تو زینب قدرے سختی سے چلائی ۔"تمہیں کیا ہے اتنا تو غصہ فلوفی کو بھی نہیں آیا ہو گا جب فاطمہ ہنس رہی ہو گی ۔۔۔۔" ۔ زھرا بمشکل اپنی ہنسی روک کر بولی ۔جبکہ زینب بڑا سہ بناتے اس کے الفاظ دہرانے لگی ۔اور وہ بعض آئے بغیر ہنستی رہیں۔وہ تینوں بہت اچھی دوست سے بن چکی تھی ، اور اچھی اور بری صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے یہ زینب ظاہر کر چکی تھی جب وہ کچھ دنوں کے بعد ایک گاؤن میں یونی آئی تھی اور اسے دیکھ کر زھرا اور فاطمہ حیران تھی مگر خوش بھی کیونکہ اب تینوں دوستیں ایک جیسی ہو چکی تھی ۔ یونیورسٹی کی دیواریں ان کے قہقے سننے لگیں تھی اور یقیناً اب یونیورسٹی ان کو یاد بھی رکھنے والی تھی ۔زھرا کی وجہ سے ان کی دوستی کو بھی مقبولیت حاصل ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبدالرحمان یونیورسٹی اتنا ہی کم آتا تھا جتنا تمہارا بس چلے تو تم اپنے رشتے داروں کے گھر جاو۔۔۔۔جبکہ اپنے ڈیمارٹمنٹ میں اس سے بھی کم پایا جاتا تھا ۔عبدالرحمٰن کی راتیں کلب میں گزرتی تھیں گناہوں کی وادی میں کبھی اپنے دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی پر نکل آتا اور کبھی دوستوں کے ساتھ آدھی رات کو بائیک ریس پر نکل جاتا اسکی بائیکنگ سے پوری سوسائٹی تنگ تھی سوسائٹی کے گیٹ سے صرف گھر تک کے سفر میں ہی وہ آدھی رات کو بھی پوری سوسائٹی کو جگا دیتا تھا اور آدھی رات کو پوری سوسائٹی اسے گالیاں بکتی تھی۔۔۔۔۔وہ تو تھا ہی امیر گھرانےکی بگڑی اولاد۔۔۔۔۔اس کا صرف چہرہ قابلِ تعریف تھا اس کا کوئی کام بھی سراہنے کے قابل نہیں تھا سوائے ان لوگوں کے جو فحاشی کو ٹرینڈ جانتے ہوں۔۔۔۔۔۔" اسلام و علیکم !" زھرا گھر میں داخل ہوتی بلند آواز میں سلام دینے لگی تھی ۔جو ان کو بچپن سے سکھایا گیا تھا اگر وہ لوگ غلطی سے سلام دینا بھول جاتے تو عامر صاحب ان کو واپس دروازے پر بھیج دیتے اور سلام دے کر گھر میں داخل ہونے کا کہتے ۔۔۔۔" وعليكم السلام۔۔۔۔سرپرائز۔۔۔۔زھرا کے سلام دینے پر بنتِ بیگم کے جواب پر اچانک پیچھے سے سارہ نمودار ہوئی اور کہنے لگی ۔"آہ ۔۔۔تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا ، تم کب آئی ؟ "زھرا اس کو دیکھتی اچانک ڈر کر بولی اور پھر خوش ہوتی پوچھنے لگی ۔" میں آج جب تم یونی گئی ہوئی تھی"۔سارہ اس کو جواب دیتی مسکرا کر بولی ۔"اچھا، میرے لیے کچھ لائی ہو ؟ " زھرا چہرے پر امید اور خوشی لیے پوچھنے لگی ۔"بد تمیز ، کتنی خود غرض لڑکی ہو تم نہ سلام ، نہ دعا ،نہ حال,نہ احوال سیدھا کیا لائی ہو ورلڈ ٹور پر نہیں گئی تھی میں اپنی دوست کی شادی پر گئی تھی اور تم کیا سوچ رہی تھی میں تمہارے لیے کیا ہی لاتی ، لڈو وہ بھی میری دوست کی شادی کے۔"سارہ اس کے سوال پر حیران ہوتی اچانک تپ کر بولی تھی ۔" بس