Chapter 1الرحمٰن الرحیم
لایا ہے ۔۔۔۔تاکہ یہ بات بھی پوری ہو کہ رحمٰن کی وسیع رحمت پورے عالم کے لیے ہے ۔" فاطمہ فوراً سے جواب دینے لگی ۔"یس مائے گرل ۔۔۔۔" زھرا ہاتھ بڑھاتی بولی جس پر فاطمہ ہاتھ رکھ گئی ۔"اور پتہ ہے رحیم بعد میں کیوں آیا ہے رحیم یعنی جس کی رحمت خاص ہو اور اب ذرا اگلی آیت پر غور کرو ۔۔۔مالک یوم الدین (آخری دن کا مالک ہے ) ۔۔۔۔" پھر سے زھرا اشارہ کرتی بولی تھی ۔"ہاں میں سمجھ گئی ۔۔۔۔" اب کی بار زینب بولی تھی ۔"اس کا مطلب ہے کہ آخرت کے دن اللہ تعالٰی کی رحمت اللہ کے خاص بندوں کے لیے ہو گی اس لیے اللہ نے رحیم کو بعد اور مالک یوم الدین سے پہلے لکھا ہے ۔۔۔۔۔تاکہ ثابت ہو سکے اللہ کی یہ رحمیت قیامت کے دن صرف اس کے خاص بندوں تک محدود ہو گی۔" زینب جوش سے بولی تو اتنی دیر میں کھانا آ گیا۔ دونوں اس کی بات سے بہت متاثر ہوئی اور کھاتے وقت اسے سراہتی رہی ۔۔۔۔وہ کھانا کھا چکے تو دونوں لڑکیاں اپنے ڈرائیور کو بلا چکی تھیں ۔"تم نے آج بہت اچھی بات بتائی بہت شکریہ ۔۔۔۔ہمارے علم میں خاصہ اضافہ ہوا ہے ۔۔۔" فاطمہ اس سے شکریہ کہنے لگی ۔"ہاں یار تم نے تو میرے دماغ کے پیچ کھول کر رکھ دیے ۔۔۔۔" زینب بھی بولی ۔جب وہ اپنے اپنے ڈرائیورز کے ساتھ چل دیں جبکہ زھرا بھی اپنی گاڑی پر سوار ہوتی بیٹھ گئی اور ڈرائیور نے گاڑی گھر کی جانب بڑھا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ایک خوبصورت برے سے محل نما گھر جو باہر سے سفید رنگ کا نمایاں ہوتا تھا کے اندر داخل ہوئی تھی ۔ باہر سے نظر آنے والی کھڑکیوں سے یہ اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ گھر میں بہت سے کمرے تھے ۔ مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا اس گھر کے کمروں میں خاموشی اور اندھیروں نے بسیرا کر رکھا تھا ، پورے محل نما ویلا میں صرف دو کمرے تھے جہاں پر روشنی آوازیں اور سکون تھا ، ایک فاطمہ کا روم جہاں پر رات میں بھی وہ ہلکی سی روشنی کر کے سوتی اور صبح شام وہاں پر قرآن مجید کی تلاوت اور سجدے ہوتے تھے۔اس کے علاوہ بلی کے بچوں اور بلی کے ساتھ کھیلنے والی فاطمہ کی بھی آوازیں ہوتیں ۔دوسرا کمرہ فاطمہ کی ماما کا تھا جہاں فاطمہ کے پاپا اور ماما ڈیورس سے پہلے رہ چکے تھے۔ فاطمہ کے ماما بابا علیجدگی اختیار کر چکے تھے اور وجہ فاطمہ کے بابا کا بڑا رویہ بنا تھا ۔۔۔۔۔ فاطمہ علیجدگی کے بعد ایک سال اپنی ماما کے ساتھ اور ایک سال اپنے بابا کے ساتھ رہتی تھی مگر اچانک ہی اس کا اپنی ماما کے گھر جانا بند کر دیا گیا وہ وجہ نہیں جان پائی تھی۔وہ صرف اپنے رب کے سامنے رویا کرتی تھی اور ہر روز اللہ سے اپنی ماما کی حفاظت اور ان سے ملنے کی دعا کرتی تھی ۔اپنی ماں سے بچھڑنے کے بعد وہ کبھی چین سے نہیں سو پائی تھی ۔اسی عرصے میں فاطمہ کے بابا نے اسے اپنی دوسری شادی کا بھی بتایا تھا جس پر وہ کچھ کہہ تو نہیں سکی تھی مگر وہ اس پوری رات خاموش آنسو بہائے لگاتار روتی رہی تھی ۔اس کی ماما کے کمرے میں بھی قرآن مجید کے تلاوت اور بہت سے سجدہ کئے گئےتھے وہ کمرہ کبھی خالی نہیں ہو سکتا تھا وہاں پر ہونے والی عبادات اس کو کبھی بھی خالی نہیں ہونے دے سکتی تھی اور وہاں پر ایک الگ ہی سکون تھا ۔ان دو کمروں کے علاوہ پورا محل نما گھر سنسان تھا۔ جیسے وہاں کوئی نہ رہتا ہوا ندھیرا اور خاموشی ہر جگہ پھیلے ہوئے تھے ، فاطمہ کے بابا زیادہ تر بزنس میٹنگز اور بزنس ٹرپ کی وجہ سے باہر رہتے تھے اور سوتیلی ماں امریکہ میں رہتی تھی جن کے پاس فاطمہ کے بابا زیادہ تر ہوئے جاتے تھے ۔فاطمہ کا کمرہ بالکل سادہ تھا ، ایک کنگ بیڈا دیوار میں نصب وارڈروب۔۔۔۔ڈریسنگ ٹیبل دو صوفے اور اٹیچ باتھ روم تھا ، ہر چیز گرے کلر کی تھی اور اس کمرے میں ایک کو نا مخصوص تھا جو اس کی عبادت گاہ تھا جس کو بہت خوبصورتی سے جایا گیا تھا ۔پورے گھر میں صرف یہی ایک جگہ تھی جس