Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 39 of 44 89% Completed ~4 min read

بنایا گیا میں خاص ہوں اور خاص ہی کے لیے بنایا گیا ہوں ۔۔۔۔"عبدالرحمٰن کیمر کے تاثرات کو نظر انداز کرتا اپنی بات جاری رکھتا بولا ۔"Remember confidence still but overconfidence kills."کیمر اس کی بات ہر بے حد سنجیدگی سے مگر پرسکون انداز میں گویا ہوئے تھے ۔"Don't worry dad…."عبدالرحمٰن کہتا کھڑا ہوا تھا اور ان کی جانب جھکا ۔"When money speaks ,voices decrease…and when voices decrease work increase …."وہ آنکھ دباتا کہتا جانے لگا ۔"دھیان رکھنا ڈیل گھاٹے کی نہ ہو ۔۔۔۔" کیمر اس کے جاتے وجود کو دیکھتے کہنے لگے جب وہ دروازے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔سب ورکرز ایک بار پھر سے ادب سے کھڑے ہوتے خیرباد کہنے لگے جب وہ دوبارہ نظر انداز کرتا آے بڑھ گیا ۔اور پارکنگ سے اپنی سیاہ BMW1000RR بھگاتا رفو ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاطمہ ۔۔۔۔زینب۔۔۔۔" زھرا ابھی ابھی لیکچر لے کر نکلی تھی جب اسے ڈیمارٹمنٹ کے سامنے سے فاطمہ اور زینب گزرتی ملیں ۔"السلام علیکم! کیسی ہو تم دونوں ؟" وہ رک کر مڑی تو زھرا ان کے قریب آتی بولی ۔"وعلیکم السلام! ہم ٹھیک ہیں تم سناؤ ۔۔۔۔" فاطمہ کے بعد زینب بولنے لگی ۔"کدھر جا رہے ہو ؟ فری ہو تم دونوں ؟" زھرا ان سے پوچھنے لگی۔"ہاں ہم ویسے ہی گھوم پھر رہے تھے ۔۔۔۔سوچا تمہارے پاس آئیں مگر کلاس ہو رہی تھی تو ہم نے باہر آنا مناسب جانا ۔۔۔۔" فاطمہ وضاحت دیتی بولی ۔"اچھا چلو اب میں فری ہوں مل کر کچھ کھاتے ہیں ۔۔۔" زھرا کہنے لگی جبکہ دونوں ہاں میں سر ہلا گئی ۔"آج کہیں باہر چلتے ہیں ۔۔۔۔" زھرا تجویز دیتی رک کر بولی ۔"باہر مگر باہر کیسے جائیں گے ؟" فاطمہ فوراً پوچھنے لگی ۔"ڈرائیور انکل باہر ہی کھڑے ہوں گے ۔۔۔۔ایسا کرو میرے ساتھ آ جاؤ اور جہاں جائیں گے تم لوگ انکل کو بھی وہیں بلا لینا ۔۔۔۔" زھرا نے ایک اور آئیڈیا دیا تو دونوں کچھ دیر سوچنے لگی اور پھر راضی ہوں گئی ۔یہ اسلام آبار کا ہائی فائی ریستوران تھا ۔انتہائی خوبصورت آرائش ۔۔۔۔دو منزلوں پر بنائی گئی عمارت لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی بہترین چیز تھی ۔وہ لوگ ریستوران میں آتے آرڈر دے چکے تھے ۔"کچھ بات کرو ۔۔۔۔" جب تینوں کچھ دیر خاموش ہوئی تو زھرا خاموشی توڑتی بولی ۔" کیا بات کریں ؟ کچھ کہنے کو ہے ہی نہیں ۔۔۔۔" زینب ریستوران کی آرائش کو ستائشی نظروں سے دیکھتی بولی ۔"اممم۔۔۔۔کیوں نہ قرآن پر بات کریں ،قرآن کی پہیلیوں پر ۔۔۔۔" جب فاطمہ فوراً بولی ۔اس کی آنکھوں میں ایک چمک ظاہر ہوئی تھی ۔جس پر زھرا بھی مسکرائی ۔"ہاں یہ بات کرنے کے لیے اچھا اور اٹرسٹنگ ٹاپک ہے۔" زھرا پرجوش سی بولی ۔"مگر مجھے تو اس کے متعلق کچھ نہیں پتا ہے ۔۔۔۔"زینب ان دونوں کو دیکھتی معصوم چہرہ بنائے بولی ۔"اٹس اوکے ۔۔۔۔تم ہمیں سننا۔۔۔۔۔تم لوگوں کو میں اپنی حالی میں کی گئی ریسرچ کے بارے میں بتاتی ہوں۔۔۔" زھرا اسی پرجوش لہجے میں بولی ۔"ہاں کیوں نہیں ضرور بتاؤ ۔۔۔۔" فاطمہ مسکرا کر بولی اور زینب بھی سننے کے لیے کان کھڑے کر گئی ۔"تم لوگوں نے کبھی سوچا ہے کہ قرآن مجید کی پہلی سورت یعنی سورت فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے آغاز میں ہی دو ایسے لفظوں کا ذکر کیا ہے جو باہم ایک سے ہیں یعنی اگر مطلب دیکھا جائے تو ایک معلوم ہوتا ہے ۔۔۔" زھرا نے بات کو دلچسپ انداز سے کہنا شروع کیا تھا ۔دونوں لڑکیاں ٹکی باندھے زھرا کو ہی دیکھ رہی تھی ۔"دیکھو ہمارے پاس آیات ہیں ۔۔۔الحمداللہ رب العالمین ۔۔۔۔۔الرحمٰن الرحیم ۔۔۔اب اگر ہم دیکھیں تو پہلی آیت میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے دو ناموں کا استعمال کر دیا ایک ہی جگہ دو الگ الگ نام ۔۔۔۔"اللہ اور رب " اب سوچو اللہ تعالیٰ صرف ایک نام بھی تو استعمال کر سکتے تھے نہ ۔۔۔۔جیسے الحمداللہ اللہ العالمین یا پھر الحمد رب رب العالمین ۔۔ تو پھر دو الگ الگ نام کیوں ؟" زھرا نے انہیں مدعا سمجھایا تو زینب کی دلچسپی قدرے بڑھ گئی جبکہ فاطمہ بھی سننے کو تیار تھی ۔" تو چلو سمجھتے ہیں کیوں ؟دیکھو آیت کو سمجھنے کی لیے پہلے آیت میں موجود لفظوں کے معنی اچھی طرح سمجھتے ہیں تو آیت میں استعمال ہونے والا لفظ حمد جو ہے اس کے معنی ہیں تعریف۔۔۔۔ ویسے ہی جیسے ہم لوگ بچپن میں اردو

Prev Next Page