Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 23 of 44 52% Completed ~4 min read

ہوتا اپنی گہری آنکھیں لیے سرد تاثرات کے ساتھ بغیر کچھ کہے ۔۔۔۔ پر نسپل کا جملہ مکمل ہونے پہلے ، پرنسپل کے ٹیبل پر ایک لفافہ رکھے فوراً سے باہر کی طرف بڑھ گیا ۔اور چانسلر ابھی تک اس کی حرکت کو دماغ میں پروسس کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔یہ وہ لفافہ تھا جو کیمر نے احان کو پرنسپل کو دینے کے لیے دیا تھا ۔۔۔۔اور احان کے اس رویہ کی وجہ بھی یہی تھی کہ کیمر درانی یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹر تھے اور یہاں پیسہ بولتا تھا کسی کی مجال تھی کہ کیمر کے دو صاحبزادوں کو کوئی کچھ کہہ دے ۔"ا یکسکیوز می ، یہ بزنس بلاک کدھر ہے ؟"۔زھرا احان سے جو ابھی وائٹ بلاک سے نکلا تھا روکے پوچھنے لگی۔وہ کچھ نہ بولا اور سائڈ سے نکل کر آگے بڑھنے ہی لگا تھا جب پھر سے سمندر میں طوفان برپا ہوئے ۔تاریکی سمندر پر حاوی آنے لگی اور سمندر تاریکی میں گرنے لگا۔"بد تمیز نہ ہو تو ۔۔۔۔"زھرا اس کی حرکت پر بے اختیار قدرے سخت لہجے میں بولی ۔جبکہ احان کو تو ویسے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ دن میں نجانے کتنی ہی ایسی باتیں اسے سننے کو ملتی تھیں ۔"ہم وہیں جا رہے ہیں چاہو تو ہمارے ساتھ آ جاو۔۔۔۔۔" عمر احان کو رکتے دیکھ زھرا کی بات سنتا نرمی سے بولا۔کہ کہیں زھرا اسے بھی نہ کچھ کہہ دے ۔جبکہ فاطمہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہوتی اس پر سے اپنی سیاہ تاریکی کے سائے اٹھاتی جلدی سے بولی ۔"اسلامک ڈیمارٹمنٹ بھی ۔۔۔بتا دیں ۔۔۔۔"فاطمہ خود کو نارمل رکھتے بولی مگر وہ اس کی کنفیوژن کا اندازہ لگا چکا تھا ۔"اسلامک ڈیمارٹمنٹ ۔۔۔۔۔" عمر کچھ بولتا اس سے پہلے ہی احان سمندری آنکھوں کو فاطمہ پر سے ہٹاتا اپنے بائیں جانب اشارہ کرتا ہوا فاطمہ کو بتانے لگا جبکہ فاطمہ کو راستہ بتاتے ہی وہ چل دیا فاطمہ نے بائیں جانب دیکھا۔جبکہ عمر احان کو حیرانگی سے آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگا اس کا منہ حیرانی سے کھلا کا کھلا رہ گیا ۔"تھینکس ۔۔۔۔۔" فاطمہ ذرا بلند آواز میں بولی جب احان اچانک رکا اور پھر دوبارہ چل دیا۔فاطمہ زینب کو چلنے کا اشارہ کرنے لگی اور زھرا کو بھی احان اور عمر کے ساتھ چلے جانے کا کہنے لگی۔زینب نے بھی زھرا کو بعد میں ملنے کا کہا اور جلدی سے فاطمہ کے ساتھ چل دی ۔۔۔۔۔جبکہ ان کے جاتے ہی زھرا عمر اور احان کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔" نام کیا ہے تمہارا ؟ " زھرا چلتے ہوئے عمرکے برابر آتی عمر سے پوچھنے لگی۔جو احان کو کب سے حیرانی اور سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا جس کا یقیناً احسن پر کوئی اثر نہ تھا ۔"عمر احمد۔۔۔۔" عمر ایک لفظی جواب دینے لگا۔" اور اس بگڑی اولاد کا ۔۔۔" زھرا کا اشارہ اب کی بار احان کی طرف تھا ۔جو اس کی بات سنتے بھی اسے نظر انداز کر گیا ۔ اللہ کتنی بے باک تھی وہ لڑکی ۔۔۔۔"احان درانی ۔۔۔۔" عمر زھرا کے اس طرح کہنے پر اس کا جائزہ لیتا شدد ہوتے ہوئے بولا ۔" ہممم۔۔۔۔کون سے سمسٹر میں ہو؟" زھرا پوچھنے لگی۔"پانچویں ۔۔۔۔" عمر پھر سے زھرا کو بتانے لگا ۔"آہ ۔۔۔۔تو ہماری کلاس بھی ایک ہو گی۔۔۔۔" زھرا عمر کو بتاتی آبرو اچکائے بولی۔"تم بھی پانچویں سمسٹر کی ہو ؟ " عمر اب اس سے سوالیہ انداز میں پوچھنے لگا ۔"ہاں۔۔۔۔" زھرا نے ایک لفظی جواب دیا ۔"پہلے تمہیں کبھی دیکھا نہیں ہے ۔۔۔۔" عمر اسے دیکھتا سوچ کر بولا ۔"ہممم کیونکہ میں پہلے یہاں نہیں پڑھتی تھی ۔۔۔۔میں ٹرانسفر سٹوڈنٹ ہوں ۔۔۔۔" زھرا عمر کو بتاتی بولی عمر سمجھنے والے انداز میں سر ہلانے لگا ۔"یہ صاحبزادہ بھی تمہارے ساتھ ہے ؟" زھرا پھر سے عمر سے پوچھنے ۔جب کہ اس بار احان صرف ایک گہرا سانس بھر کر رہ گیا ۔" ہ۔۔۔ہاں۔۔۔" عمر زھرا کی ہمت کو داد دیتا حیرانی سے بولا ۔ڈیمارٹمنٹ بھی آ چکا تھا وہ لوگ کلاس روم میں داخل ہوئے اس بار احان اور عمر کے ساتھ تیسرے وجود کو دیکھتے سب سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگے ۔" السلام علیکم! " زھرا بڑے ہی دوستانہ لہجے میں مسکرا کر پوری کلاس سے مخاطب ہوئی ۔" میں زھرا نور ہوں۔۔۔۔نیشنل ایلیٹ یونیورسٹی کی ٹرانسفر سٹوڈنٹ ۔۔۔۔۔آپ سب سے مل کر خوشی ہوئی امید ہے کہ آپ سب کو بھی خوشی

Prev Next Page