Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 24 of 44 55% Completed ~4 min read

ہوئی ہو گی۔۔۔۔" زھرا پورے چہرے پر مسکراہٹ سجاتی بولی اور پیچھے جا کر ایک خالی سیٹ پر بیٹھ گئ۔کلاس میں ایک سرگوشی سے پھیل گئی جو وہ جانتی تھی اسی سے ریلیٹڈ تھی مگر نظر انداز کرتی مسکرائے بیٹھی رہی کوئی اسے دیکھتا تو مسکراہٹ گہری کر لیتی اور سامنے والے کو دوستانہ ہونے کا ثبوت دیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں پروفیسر آ چکے تھے اس نے پروفیسر کو بھی اپنا تعارف کروایا اور پھر ایک ساتھ دو کلاسس لیتی ڈیمارٹمنٹ سے باہر نکل آئی اور اپنے چہرے پر سجائ مصنوعی مسکراہٹ غائب کرتی سکون کا سانس لے کر چلنے لگی۔جیسے کب سے باندھی گئی ہو اور اب اسے کھولا گیا ہو ۔اسے زینب اور فاطمہ دوبارہ تو نہیں ملی مگر وہ میں گیٹ پر آئی تو عامر صاحب کی گاڑی کھڑی ہوئی تھی وہ اس میں جا بیٹھی ۔" تو کیسا گزرا آج کا دن شہزادی صاحبہ ۔۔۔۔" عامر صاحب اس سے مسکرا کر پوچھنے لگے۔"اچھاگزرا۔۔۔۔" زہرا مسکراتے ہوئے کہنے لگی ۔"چلو اچھا ہے اب تمہارا دل بھی جلد ہی لگ جائے گا اب ذرا احتیاط برتنا ۔۔۔۔دو سال کسی طرح پورے کر لینا ۔۔۔"۔ عامر صاحب اسے سمجھاتے بولے کیونکہ اس کا ٹرانسفر اسی وجہ سے ہوا تھا کیونکہ پرانی یونیورسٹی میں ٹیچرز کا رویہ بہت ہی نا انصافانہ تھا زھرا تو ویسے ہی غصے کی تیز تھی ۔اس کی حد تب ہوئی جب ٹیچر نے اس کا سی جی پی اے 3.7 سے 2.7 کر دیا اور زھرا نے اپنے حق میں آواز اٹھائی ۔۔۔۔۔آواز اٹھاتے ہی بہت سے لوگ اس کے خلاف ہو گئے جن میں ٹیچر بھی تھے اور سٹوڈنٹ بھی اور جو سٹوڈنٹ اس کو حق پر سمجھتے تھے وہ بھی اس کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے اس لئے آخر پر آ کر وہی ہوا جو پاکستان میں ہوتا ہے ۔۔۔۔اس کا ٹرانسفر کر دیا گیا ۔اور زھرا نے بھی یہی بہتر جانا ۔۔۔اور خاموشی سے ٹرانسفر لے لیا ۔زھرا اثبات میں سر ہلا گئی باقی سارا سفر خاموشی سے ہی گزرا۔"شہزادی ہو سکتا ہے کل سے تمہیں ڈرائیور چھوڑنے آئے اور لینے جائے مجھے اپنی بزنس ٹرپ کی وجہ سے نیو یارک جانا پڑ رہا ہے اس لیے اپنا خیال رکھنا اور اگر کچھ بھی کام پڑے یا کہنا ہو تو اپنی ماما کو بتا دینا اوکے"۔ عامر صاحب کھانے کے ٹیبل پر بیٹھے پاس بیٹھی زھرا سے کہنے لگے ۔"بابا آپ پچھلے مہینے ہی تو آئے تھے اب پھر جا رہے ہیں" زھرا افسرده سہ کہنے لگی ۔"شہزادی صرف دو ہفتوں کی ہی بات ہے پھر میں آجاؤں گا اور تمہارے ساتھ بہت سارا وقت گزاروں گا"۔ عامر صاحب زھرا کو دلاسہ دیتے کہنے لگے ۔"اٹس اوکے میں آپ کو مس کروں گی"۔ زھرا اپنے چہرے پر وہی افسردگی سجائے کہنے لگے ۔کیا کرتی جانتی تھی کام ہے یہ توکرنا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔"تو پھر خوش ہو جاؤ کیا تم اپنے بابا کو اس طرح الوداع کہوگی " ۔ عامر صاحب کہنے لگے ۔ جہاں زھر ا مصنوعی مسکراہٹ سجائے ڈیش بورڈ سے باہر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔"اٹھ جاؤ عبد الرحمٰن اور کتنا سوؤ گے ۔۔۔۔"آسیہ بیگم عبد الرحمٰن کے کمرے میں آتی اسکو اٹھانے کی کوشش کرتی بولی تھی ۔جو گھر سے نکلنے کے بعد گھر رات کو بہت دیر سے آیا تھا ۔اتنی جلدی ۔۔۔۔" ۔ عبد الرحمٰن نیند میں ہی بولا ۔"جلدی۔۔۔۔۔ بیٹا جی بارہ بج چکے ہیں ۔۔۔ "آسیہ بیگم اس کے سر پر دھماکا کرتے بولی ۔وہ فوراً اٹھ بیٹھا ۔۔۔"بارہ ۔۔۔۔"وہ شدد سہ بولا ۔"میرا لیکچر ساڑھے گیارہ کا تھا ۔۔۔۔۔"عبد الرحمٰن پریشانی سے اپنے بیڈ سے اٹھتا اپنی وارڈروب کھولتا نفیس اور مہنگے کپڑوں کو ٹٹولتا بولا۔"ہمم ۔۔۔۔جیسے تو تمہیں سچ میں بڑا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔"آسیہ پر سکون سے لہجے میں بولی ۔"ہاں نہ ۔۔۔۔۔آج ایک امپورٹنٹ ایونٹ تھا نہ ۔۔۔۔یار میں نے سوچا یونیورسٹی پہنچتے پہنچتے ہی اس کا وقت ہو جائے گا سیدھا وہیں جاؤں گا ۔۔۔۔"وہ وارڈروب میں سے ایک بلیک پینٹ اور بلیک شرٹ اور اوپر لیدر کی جیکٹ نکالے واشروم کی طرف بڑھا تھا ۔شاور لیتا وہ باہر نکلا تو گورے رنگ پر کالی پینٹ شرٹ اور جیکٹ بہت جج رہی تھی ۔اور سیاہ لمبے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا اس نے ہیئر ڈرائر نکالتے بال سکھائے اور جلدی سے اپنی گھڑی کالے رنگ کا چھلا شہادت والی

Prev Next Page