Chapter 1الرحمٰن الرحیم
اپنا تعارف دینا پسند کریں گی صاحبہ ۔۔۔" وہ اس کو دیکھتا بولا ۔۔۔۔جب زھرا اسے گھورتی تھوڑا آگے بڑھی ۔اس کی سیاہ آنکھیں لڑکے کو ایک پل کے لیے ڈرا گئیں۔"صاحبہ نہیں ۔۔۔شہزادی صاحبہ۔۔۔۔" وہ اس کی نظروں میں نظریں ڈالے بلکل سنجیدگی سے بولی جہاں خوف نہیں بلا کی سنجیدگی اور سرد مہری تھی ۔"اووو ۔۔۔شہزادی صاحبہ ۔۔۔۔" وہ اب کی بار بولتا قہقہ لگا اٹھا جس کے ساتھ اس کے پیچھے کھڑے لڑکے بھی قہقہ لگا گئے ۔جب زھرا بغیر کسی تاثر کے ابھی بھی اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔"تو کیا سمجھوں شہزادی صاحبہ آپ کا تعارف ۔۔۔۔۔"وہ اب پھر سے تنزیہ لہجے میں مذاق اڑانے والے انداز میں بولا۔"زہر ۔۔۔۔۔" وہ اسی لہجے میں بولی ۔"تجھ جیسوں کے لیے زہر بھی ہوں ۔۔۔۔قہر ہوں ۔۔۔" وہ ڈرامائی انداز میں ایک مسکراہٹ دیے بولی تھی ۔عجیب سی نگل جانے والی مسکراہٹ ۔۔۔۔ختم کر دینے والی مسکراہٹ۔۔۔۔"اوو پاگل شہزادی ۔۔۔میں نے تجھ سے کچھ کہا نہیں ہے یہاں سے نکل ۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔" وہ اب کی بار سنجیدگی سے اسے پیچھے دھکیلتا بولا تھا۔زھرا اس کی حرکت پر اسے دیکھتی رہ گئی ۔اسکا ہاتھ اسکے کندھے سے ملا تھا ۔وہ اس کی حرکت پر پہلے تنزیہ مسکرائی ۔"کیا معلوم نہیں ہے تجھے شہزادیوں کے اصول ۔۔۔۔" اور پھر انتہائی سرد لہجے میں بولی اتنا سرد کہ اس کے بولنے پر لڑکے میں ایک خوف اتڑا تھا ۔"افففف۔۔۔۔۔کیا سین ہے؟ " جب اسے اپنے پیچھے سے آواز آئی ۔وہ اسی لڑکے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی اس کے غصے کی انتہا تھی ۔وہ غصے کی تیز شہزادی اس وقت ابل رہی تھی ۔وہ وہی نظریں لیے پچھے مڑی تھی ۔جہاں وہ حسین شہزادہ کھڑا تھا ۔جس کا حسن آج پھر شہزادی پر اثر کرنے میں نا کام رہا تھا ۔وہ سیاہ تاریک کھا جانے والی نظروں سے عبدالرحمٰن کو دیکھنے لگی ۔"یہ کون ہے ؟" زینب اپنے ساتھ کھڑی لڑکی سے ہلکی آواز میں پوچھنے لگی۔"عبدالرحمٰن ۔۔۔۔" وہ لڑکی صرف اتنا بولی ۔"کون عبدالرحمٰن ؟" زینب دوبارہ آبرو اچکائے پوچھنے لگی۔"یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کیمر درانی کا بیٹا ۔۔۔یونیورسٹی کا مسٹر ہینڈسم ۔۔۔" وہ لڑکی اب تھوڑا وضاحت میں بتاتی بولی جب زینب ستائشی نظروں سے اسے دیکھنے لگی اور پھر اپنی دوست پر نظریں پڑی جو پھٹنے کے لیے تیار تھی۔"اُف۔۔۔۔شہزادی صاحبہ۔۔۔ آپ۔۔۔۔" وہ زھرا کو دیکھتا چہرے پر مسکراہٹ گہری کیے اس کے غصے کو تاب میں نہ لاتا "آپ"لفظ پر زور دیتا بولا ۔آس پاس سب لوگ خاموش کھڑے صرف تماشہ دیکھ رہے ۔"شہزادی صاحبہ کو غصہ ۔۔۔۔""اپنی بکواس بند رکھو بیوقوف انسان۔۔۔۔" وہ لڑکا اپنا جملہ مکمل کرتا زھرا اسے خاموش کروا گئی وہ لڑکا اس کی بات پر غصے میں آگیا مگر عبدالرحمٰن کے ہوتے وہ غصے کو قابو میں کر گیا ۔زھرا عبدالرحمٰن کی جانب متوجہ ہوئی ۔"اپنے ان پالتو کتوں کو سمجھا دو یہاں کسی لڑکی پر اپنی گندی نظروں کا سایہ نہ ڈالیں ورنہ اچھا نہیں ہو گا ۔۔۔۔ہمیں نہ تم لوگوں نے وراثت میں خریدا ہے نہ ہی ہم یہاں بِکنے آئے ہیں پڑھتے ہیں تو پیسے ہم بھی دیتے ہیں ۔۔۔۔یہ جاگیر تمہارے باپ کی نہیں ہے ۔۔۔" وہ خود پر کئی حد تک قابو پاتے اسی برف سے سرر لہجے میں بولی ۔عبدالرحمان اسے خاموشی سے سنتا رہا ۔اسکی سیاہ آنکھوں میں سرخی مائل ہو چکی تھی ۔جو عبدالرحمٰن کو بے اختیار چبھنے لگی تھی ۔۔۔۔"جو حکم سرکار ۔۔۔۔مگر ایسے غصہ تو نہ کریں۔" وہ ابھی بھی بغیر کسی اور تاثر کے مسکرا کر غیر سنجیدگی سے بولا ۔کیا وہ کہیں سے مغرور اور اناپرست معلوم ہوتا تھا ۔۔۔نہیں بلکل نہیں ۔۔۔۔زھرا اب کی بار پیچھے مڑی تھی اور اس لڑکے کی طرف بڑھی اور دور سے آتی اپنی پوری قوت سے ہاتھ کا مقہ بناتی اس کے منہ پر دے مارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زھرا اب کی بار پیچھے مڑی تھی اور اس لڑکے کی طرف بڑھی اور دور سے آتی اپنی پوری قوت سے ہاتھ کا مقہ بناتی اس کے منہ پر دے مارا ۔۔۔۔۔مقہ اس قدر مظبوط تھا لڑکے کو لگا جیسے لوہے سے وار کیا گیا ہو وہ سنبھل ہی نہ سکا اور زمین بوس ہو گیا۔"یاد رکھنا شہزادیوں کے کچھ اصول ہوتے ہیں جو اگر توڑے جائیں تو ہم لڑنا بھی جانتی ہیں اور جیتنا بھی ۔۔۔۔اور