Chapter 1الرحمٰن الرحیم
drink …."اس نے کاؤنٹر پر کھڑے کھڑے کہا تھا ۔"Hey…bro … what's up…"جب ایک اور لڑکا شور میں اس کے کان کے قریب ہو کر پر جوش سہ اسے گلے لگتا بولا ۔جیسے اسے دنوں بعد دیکھا ہو۔۔۔۔۔"Yoo….bro ,fine …..you having fun?"اس نے جواب دیتے سوال پوچھا تھا ۔اسے ڈرنک سرو کی گئی تھی ۔"Yeh…..of course…."دوسرے لڑکے نے کہا تو پہلا والا ایک ہی سانس میں پورا ڈرنک کا گلاس پی گیا ۔"One ….""No need ….. let's have more fun boy …."پہلا لڑکا کاؤنٹر پر کھڑے لڑکے سے کچھ کہنے لگا تھا جب دوسرا لڑکا اسے ٹوکتا بولا ۔پہلے لڑکے کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔۔۔دونوں گالوں پر ڈمپل نمایاں ہوئے ۔۔۔۔"Sure …. let's have more fun….."پہلا لڑکا دوسرے والے کے پیچھے چلتا بلند آواز میں جوش سے بولا جو کلب کے شور میں کہیں گم ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔زھرا سٹڈی میں آئی تھی اس نے سٹڈی کی لائٹس آن کی ۔۔۔جہاں پر اندھیرے میں ڈوبا کمرہ روشن ہو گیا ۔۔۔۔کمرے کے دونوں اطراف میں بک شیلز بنے تھے اور درمیان میں بیٹھنے کی کچھ جگہ ۔۔۔۔سٹڈی میں رکھی گئی ہر کتاب وہ لڑکی پڑھ چکی تھی ۔۔۔۔۔۔کچھ کارٹن بھی زمین پر رکھے تھے جن میں سے کتابیں نکال کر شیلف میں رکھنی تھی جو شیلف ان کتابوں کے لیے مخصوص تھا جو نہ پڑھیں گئی ہوں اس نے سب سے پہلے کارٹن سے کتابیں نکال کر بک شیلف میں جوڑیں اور پھر کام ختم ہونے کے بعد اس نے قرآن کی تلاوت کی ۔تلاوت مکمل ہو لی تو وہ چلتی ہوئی اپنے لیپ ٹاپ کے پاس آئی جو اس کے فری دنوں میں سٹڈی میں ہی پایا جاتا تھا ۔"وہ لیپ ٹاپ کو اٹھاتی صوفے پر آ بیٹھی ۔لیپ ٹاپ کی سکرین کھلی۔۔۔ اس نے ایک فولڈر کھولا جہاں ٹیبل کی صورت میں گراف بنائے کچھ لکھا گیا تھا اس نے گہرا سانس لیا اور اپنے ہائیلائٹس کیے گئے لفظوں کو پڑھا ۔۔۔۔اعوذباللہ من الشیطان الرجیم ۔۔۔میں تیری پناہ چاہتی ہوں شیطان مردود کے شر سے ۔۔۔۔""بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔۔۔شروع کرتی ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔۔۔۔۔""الحمداللہ رب العالمین ۔۔۔۔۔سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو دونوں جہانوں کا رب ہے ۔""الرحمٰن الرحیم ۔۔۔ نہایت رحم کرنے والا رحیم ۔" اسنے سورت فاتحہ پر کام شروع کیا تھا اپنے ایک سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ۔۔۔۔۔"مالک یوم الدین ۔۔۔۔آخری دن کا مالک ہے ۔" اس کا لکھا گیا آخری جملہ یہی تھا ۔"اللہ تعالیٰ نے پہلی ہی آیت میں اپنے دو نام اللہ اور رب لکھے ہیں جبکہ دوسری آیت میں دو ہی نام رحمٰن اور رحیم ۔۔۔جبکہ دونوں جگہ استعمال ہونے والے دو الگ لفظوں کا ایک ہی مطلب ہے ۔۔۔ان کے پیچھے ضرور کوئی وجہ ہو گی ورنہ اللہ نے دو ایک ہی مطلب کے لفظ پہلی دو آیت میں دو جگہ کیوں استعمال کیے؟" اس کا سوال جو سب سے اوپر لکھا تھا اس نے دیکھا اس کے دماغ کو بہت سی سوچوں نے گھیرا جن سے زیادہ وہ چلاک تھی اس نے ہر سوچ کو کچھ ہی نیچے لکھنا شروع کیا ۔۔۔اس کے ہاتھ مسلسل لیپ ٹاپ پر چل رہے تھے اور سیاہ آنکھیں سفید سکرین پر جمی تھی ۔وہ اپنا کام بہت توجہ سے کر رہی تھی ۔اس کا آدھے سے زیادہ کام ہو چکا تھا بس کچھ ہی بچا تھا ۔کچھ دیر بعد اس کے ہاتھ رکے تھے ۔اس نے اب اپنے الفاظات کو ترتیب دینا شروع کیا ہاتھ مسلسل چل رہے تھے اور سیاہ نظریں لیپ ٹاپ کی سکرین پر ویسے ہی جمی تھی ۔پوری توجہ سے وہ اپنے کام میں مگن تھی ۔جب اس نے سب ترتیب دے لیا تو اس کی نظریں پھر سے اسی آیت پر گئیں اور اب کی بار آگے پیچھے کی آیت کا بھی تعین کیا۔ہر چیز سامنے موجود تھی ۔۔۔۔کچھڑی بن رہی تھی ۔دماغ نتیجہ نکال رہا تھا۔۔۔۔۔جب کچھ دیر ہی گزری اس کے ہونٹوں نے حرکت کی ۔۔۔۔پیشانی پر موجود شکنے ختم ہو کر آنکھوں پر آ بیٹھی ۔۔۔۔وہ مسکرا رہی تھی ۔مسکراہٹ پورے چہرے پر پھیلی تھی ۔اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا۔کبھی کبھی چیزوں کو سمجھنے کے لیے ان سے منسلک چیزوں کو بھی کھوجنا پڑتا ہے ۔۔۔۔جس سے راستہ آسان ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ایک کمرہ تھا۔ مدھم سی روشنی ۔۔۔فضا