Chapter 1الرحمٰن الرحیم
کی وحشت سے لڑکا اندر تک کانپ گیا تھا ۔جسے دیکھ کر زینب فوراً اسے وہاں سے لے جانے لگی اس سے پہلے وہ کچھ کرتی ۔وہ اسے وہاں سے لے جا رہی تھی جب کہ زھرا غصہ رگوں میں دبائے جو تقریباً پھول چکی تھی جنہیں کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ ریشمی کپڑے کے پیچھے تھی مگر اس کے غصے کا اندازہ آنکھوں کی سرخی سے لگایا جا سکتا تھا جو لال ہو چکی تھیں۔"عبدالرحمٰن ۔۔۔۔۔" اس خاموش فضا میں عبدالرحمٰن کا نام گونجا تھا جب فوراً زھرا کی نظروں نے سرخی مائل آنکھوں کا رخ اسی جانب کیا تھا جہاں سے آواز آٹھی تھی وہاں عبدالرحمٰن موجود تھا جو ایک طرف رخ کیے آسمانی رنگ کی پینٹ اور بلیک شرٹ پر بلیک جیکٹ ڈالے پیشانی پر شکنے لیے ہیزل گرین آنکھوں کو اسی پر ٹکائے ہوئے تھا ۔مگر اس کی آنکھوں میں آج ایک عجیب سی بے چینی تھی جو زھرا یقیناًمحسوس نہیں کر پائی تھی کیونکہ وہ تو غصے میں تپ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ جب تک کیفے میں نہیں گئی تھی عبدالرحمٰن اسے دیکھتا رہا تھا جب کہ زھرا منظر سے ہی غائب ہو گئی ۔اس کے غائب ہوتے اس نے گہرا سانس بھرا تھا اور اس لڑکے کو دیکھا جس کی حرکت پر اس شہزادی کی آنکھیں اتنی لال ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔"فضول میں کیوں پنگے لینا چاہتی ہو جسے اس نے کہا تھا اس نے اس کو اگنور کر دیا نا تم بھی تو کر سکتی ہو، کس کس سے لڑو گی کب تک لڑو گے یہ لڑکے ہیں اوارہ لڑکے ان کا کام ہے یہ تم کس کس کو چپ کراؤ گی "۔"لڑکے ہیں تو کیا ، ہماری کوئی عزت نہیں ہے ہم لوگ صرف سنتے رہیں جب تک اواز نہیں اٹھائی جائے گی تب تک یہ بولتے ہی رہیں گے ، کیا تم نہیں جانتی ظلم کرنے والا اور ظلم سہنے والا ایک جیسا ہوتا ہے ، تم لوگ لڑکوں سے ڈر رہی ہو انسان ہے نا خدا تو نہیں ہے ، ہمارا مسئلہ ہی یہی ہوتا ہے ہم خدا کے علاوہ ہر کسی سے ڈرتے ہیں اور اگر ہم لوگ صرف ایک خدا سے ڈرنے لگے تو یکھتے ہیں کون ہم پر کیسے حکمرانی کرے، کیسے ہمیں کوئی ڈرائے گا ، آج اگر یہ کتے ایک ایسی لڑکی پر بھونک رہے ہیں جو کہ نقاب میں ہے تو سوچو ایک عام لڑکی یا ایک غیر مسلم لڑکی اس کا حال کیا کرتے ہوں گے ، اور اگر ہم ابھی بھی یہی کہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں تو سچ میں ہم کچھ نہیں کر سکتے ، سوائے ڈرنے کے "۔ زھرا کو جب غصہ آتا تھا وہ کچھ بھی بولتی تھی ، دیکھے بغیر کے سامنے کون ہے ۔ اور اس ایک مہینے میں وہ دونوں یہ بات جانتی تھی ، اس لیے دونوں ہی چپ تھیں ۔ یہ جانتے ہوئے کہ وہ کچھ دیر بعد غصہ ختم ہونے پر خود ہی چپ ہو جائے گی ۔" سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا "زھرا کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو زینب بولی تھی ۔"ہمم۔۔۔۔۔" زھرا صرف سر ہلا گئی تھی ۔وہ صرف بولنا بند ہوئی تھی مگر کچھ بھولی نہیں تھی ۔جبکہ فاطمہ اس بار کیفے سے چیزلینے گئی تھی زینب زھرا کے ساتھ ہی بیٹھی رہی تھی ۔زھرا خاموشی سے اپنے ہاتھوں کو گھور رہی تھی ۔جب زینب نے اس سے کچھ کہا تھا اور وہ اٹھ کر چلی گئی اس نے کیا کہا تھا وہ نہیں جانتی تھی کیونکہ وہ اپنے ہاتھ پر لگا نشان دیکھنے میں مصروف تھی جو کئی سالوں پہلے لگا تھا اور اس کا نشان ابھی تک اس کے ہاتھ پر سے نہیں ہٹا تھا ۔وہ ایک چاقو کا نشان تھا ۔جس کو دیکھ زھرا ہمیشہ کہیں کھو جاتی تھی کسی الگ سی دنیا میں ۔۔۔۔۔"سوری شہزادی صاحبہ ۔۔۔۔۔" جب اچانک اسے اپنے پیچھے سے آواز آئی تھی زھرا فوراً جگہ سے اٹھی تھی اور دفاعی انداز میں اس کی جانب شہادت کی انگلی کیے دور رہنے کا اشارہ کرنے لگی جیسے وہ اس کی انگلی نہیں تلوار ہو ۔۔۔۔۔سامنے پل پل بدلتی آنکھوں والا شخص اس کی انگلی پر بھی ایسے چونکا تھا جیسے تلوار ہو اور پھر انگلی دیکھتا تنزیہ سہ مسکرانے لگا جب اس کی نظر سامنے والی لڑکی کے چہرے