Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 18 of 44 41% Completed ~4 min read

دوست ہے نہ میرب ۔۔۔۔اس کی شادی ہے اس نے مجھے بھی انوائیٹ کیا ہے اور کچھ دن پہلے آنے کا کہا ہے۔۔۔۔ میں آپ سے اجازت لینا چاہ رہی تھی ۔" سارہ صاف گوئی سے بولی تھی جب تینوں افراد اسے دیکھنے لگے ۔"ہممم۔۔۔۔ضرور۔۔۔آپ کی واحد دوست ہے ضرور جاؤ ۔۔" عامر صاحب نے فوراً ہی اجازت دے دی تھی ۔"تھینکس بابا ۔۔۔۔"سارہ کہنے لگی۔"نو وری۔۔۔۔مجھے بتانس میں چھوڑ آؤں گا اوکے ۔۔۔۔"تو عامر صاحب بھی ایک نوالہ منہ میں ڈالتے بولے تھے جب پھر سب خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔دن گزر رہے تھے اگست کی گرمیاں گزر چکی تو ستمبر کی نمی اور حبس چھا گئی۔۔۔۔۔دن کے وقت نمی اور حبس رہتی جبکہ رات ٹھنڈی اور پر سکون ہوتی تھی۔ جب وہ وقت بھی آ چکا جب زھرا کو یونیورسٹی جانا تھا اور سارہ کو بھی انہی دنوں میں اپنی دوست کے گھر ۔۔۔"جلدی کرو زھرا ۔۔۔۔" بنتِ بیگم کمرے میں داخل ہوتی کہنے لگی جہاں ادھم مچی تھی ذھرا کبھی اِدھر جا رہی تھی تو کبھی اُدھر ۔۔۔۔"جلدی کرو بچے باہر بابا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔" بنتِ بیگم اس کی ادھم کو دیکھتی بولی تھی ۔"ماما بس دو منٹ مجھے ایڈمیشن والی لسٹ نہیں مل رہی ۔۔۔۔"زھرا دراز کی چیزوں کو ٹٹولتے کہنے لگی ۔"اللہ وہ کدھر گم کر دی ہے تم نے ۔۔۔۔۔ کوئی کام اپنے وقت پر ہو جائے اور ہو بھی زھرا نور کا یہ تو نا ممکن سی بات ہے ۔۔۔۔"بنتِ بیگم زھرا کو ڈانٹنے والے انداز میں بولتی اس کے ساتھ لسٹ ڈھڈوانے لگی ۔"اچھا نا ماما ۔۔۔۔اب ایسے تو نہ کہیں میرا پہلا دن ہے ۔۔۔"زھرا معصومانہ چہرہ بنائے بولی تو بنتِ بیگم اس کے بیگ کو ٹٹولنے لگی جہاں کچھ دیر بعد ہی انہیں لسٹ نظر آ گئی۔"یہ دیکھو ۔۔۔۔ایک تو ہر چیز رکھ کر بھول جانے والی عادت پتہ نہیں کب جائے گی تمہاری چلو شاباش اب جلدی کرو بابا کب سے انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔" بنتِ بیگم اس کے ہاتھ میں لسٹ تھماتی کہنے لگی ۔"ہممم۔۔۔۔اپنے شوہر کی ہی تو پرواہ ہے آپ کو بیٹی کو کبھی پوچھا نہیں۔۔۔۔" زھرا نکھرے دکھانے لگی ہی تھی کہ بنتِ بیگم نے اسے فوراً ٹوکا تھا ۔"بس کرو میری ماں جاؤ ابھی ۔۔۔۔۔تمہارے بابا پھر غصہ کریں گے پتہ ہے نہ ۔۔۔۔"بنتِ بیگم اس کو کمرے سے باہر لاتی کہنے لگی ۔"ہم پر تو کبھی نہیں کیا۔۔۔ایسے ہمارے بابا کو بدنام نہ کیا کریں ۔۔۔۔۔" وہ کہنے لگی تو بنتِ بیگم نے اس بات کو سرے سے ہی نظر انداز کیا تھا ۔۔۔"اپنا دھیان رکھنا وقت ۔۔۔۔""رک جائیں ماما جان ،میں دسویں دفع دوبارہ آپ کی تحریر سننے کے لیے بلکل تیار نہیں ہوں ۔۔۔۔۔میں چلتی ہوں بابا انتظار کر رہے ہوں گے،اللہ حافظ ۔۔۔۔۔" اب کی بار زھرا خود ہی اپنی ماما کے لیکچر سے بچتی خارجی دروازے سے نکل گئی ۔۔۔۔"اللہ حافظ دھیان رکھنا ۔۔۔۔" بنتِ بیگم اس کو نکلتا دیکھ بلند آواز میں بولی اور نفی میں سر ہلاتی اپنے کام پر لگ گئی ۔"اتنی دیر لگا دی شہزادی ۔۔۔۔۔" زھرا گاڑی میں بیٹھی تو عامر صاحب اسے دیکھتے کہنے لگے ۔"بابا آپ کو اپنی زوجہ کا علم ہے تو سہی ۔۔۔۔۔انہوں نے لیٹ کروائی ہے ۔۔۔۔" زھرا سرے سے ہی الزام بنتِ بیگم پر ڈالتی کہنے لگی جب عامر صاحب بھی مسکرا دیے کیونکہ جانتے تھے دیر کس نے کی ہو گی ۔۔۔۔۔گاڑی گھر سے نکلتی سڑک پر بھاگنے لگی تھی اور پھر یونیورسٹی کے اندر جا رکی ۔۔۔۔"اپنا دھیان رکھنا اور دل لگا کر ان دوسالوں کو گزارنا ،دل لگا کر پڑھائی کرنا میری شہزادی میدان فتح کر کے آنا ۔۔۔۔۔" عامر صاحب کہتے ہوئے اس کا جذبہ اجاگر کرنے لگے ۔"جو حکم بادشاہ حضور ۔۔۔۔" زھرا بھی اپنی فارم میں آتی بولی ۔جب عامر صاحب اثبات میں سر ہلا گئے ۔اور اس کو پوزیٹو موٹیویشن دیتے یونیورسٹی میں بھیجتے گاڑی اپنے آفس کی جانب بڑھا گئے ۔وہ رائل بلیو گاؤن میں مبلوس روئل بلیو سٹولر کیئے ہوئے تھی اس کی کتابیں اسے سکھا چکی تھی کہ عورت ایک قیمتی ہیرا ہوتی ہے ، جو خوبصورت تو بہت ہوتا ہے مگر ارد گرد کے لوگ اس کی خوبصورتی کو حاصل کرنے اور داغ دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہوتے ہیں اور وہ جانتی تھی اس ایک داغ سے اس کی قیمت کتنی

Prev Next Page