Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 9 of 44 20% Completed ~4 min read

جب عبدالرحمٰن اس کی بات سنتا حیران ہوا ۔۔۔۔۔"But I have done nothingمگر میں نے تو کچھ نہیں کیا ہے ۔۔۔۔ "وہ اس جاتا دیکھ فوراً بولا اور اس کے قدم روک گیا جس کی وجہ سے اس کےچہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آ بیٹھی ۔وہ اسے روکنے کی کوشش میں کامیاب رہا تھا۔"ابھی کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔کرتے تو کیا ہوتا۔" وہ مڑ کر اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتی بولی جو اسے متاثر کرنے میں ناکام رہا تھا ۔"Why so rude on me ….مجھ پر اتنا غصہ کیوں ؟"وہ اس کی بات سنتا اس کے غصے کا اندازہ لگاتا بولا ۔"میرے کچھ اصول ہیں جن کے مطابق تم اسی لائق ہو ۔۔۔۔"زھرا سر اٹھائے ایک شان سے اٹل لہجے میں بولی تھی۔"Rules ? Are you queen of some state ?اصول ؟ کیا تم کسی ریاست کی ملکہ ہو؟" وہ اس کی بات پر تنزیہ سہ مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔ زھرا اسے چھوٹی آنکھیں کیے گھورنے لگی ۔اور بلکل سنجیدگی سے ایک شان اور فخر سے بولی ۔"نہیں۔۔۔۔ملکہ نہیں اپنے بابا کی ریاست کی شہزادی ہوں اور میری زندگی میں میرے کچھ اصول ہیں جن کو توڑنے پر میں لڑنا بھی جانتی ہے اور جیتنا بھی ۔۔۔۔۔"کیا فخر تھا ۔۔۔کیا پہچان تھی کیا تعارف تھا ۔۔۔۔سامنے والا کچھ بول ہی نہ سکا ۔۔۔۔۔آنکھوں میں ایک الگ سی دلچسپی امڈ آئی تھی ایک الگ سی چمک ۔۔۔مسکراہٹ میں اضافہ ہوا تھا اور دل کی گہرائیوں میں ایک خوبصورت سہ جزبہ پیدا ہوا جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا ۔"عبدالرحمان۔۔۔۔۔" جب اس کے پیچھے سے کسی نے اسے پکارا ۔۔۔۔"عبدالرحمٰن۔۔۔۔۔ کبھی اپنے نام جیسے کام بھی کئے ہیں؟ " وہ طنزیہ کہتی اپنی ایک ریسرچ یاد کرتی بولی اور وہاں سے چلی گئی۔جبکہ عبدالرحمٰن کی نظر اس کے غائب ہوتے وقت تک اس کا پیچھا کرتی رہیں ۔"کون تھی وہ ، کیا کہہ رہی تھی۔"ازرا بیگم جو اسے آواز دیتی اب اس کے قریب آتی پوچھنے لگی ۔"کوئی شہزادی تھی ۔۔۔کسی ریاست کی شہزادی سی"۔ عبدالرحمٰن اسی جانب جہاں زھرا گئی تھی دیکھتا مسکرا کر بولا۔"آپ یہاں؟"اور پھر ازرا بیگم کو یہاں پاتا پوچھنے لگا۔"ہاں ، وہ میں نے سوچا کہ ایک ساتھ شاپنگ کر لیتے ہیں اس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ تھوڑا وقت بھی گزار لیں گے ، ویسے بھی اپنوں کے ساتھ وقت جلدی گزر جاتا ہے" ۔ وہ عبدالرحمٰن کو دیکھ کر مسکراتی بولی۔ جب عبدالرحمٰن انہیں اچھنبے سے دیکھنے لگا اور پھر زور دار قہقہ مار اٹھا ۔"مجھے لگتا تھا وقت اپنوں کے ساتھ نہیں خاص کے ساتھ جلدی گزرتا ہے، اپنا خاص نہیں ہوتا، خاص ضرور اپنا ہوتا ہے۔" عبدالرحمٰن کہتا سٹور کی جانب بڑھ گیا جہاں سے اسے کچھ چیزیں خریدنی تھی ۔جب کہ ازرا بیگم اسے دیکھتی رہ گئی اور گہرہ سانس بھرتی خود کو نارمل کرتی اس کے پیچھے چل دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"شہزادی، بنتِ جلدی کرو۔۔۔۔ ایک تو یہ عورتوں کی شاپنگ۔"عامر صاحب کپڑوں کی دکان میں کھڑی کپڑے دیکھتی سارہ اور بنتِ کو مخاطب کرتے بولے۔مرد ہو اور عورت کی شاپنگ سے تنگ نہ آئے ہو ہی نہیں سکتا ۔"ہاں ۔۔۔۔بس ۔۔۔۔""ماما۔۔۔۔بابا۔۔۔سارہ آپ لوگ یہاں ہے ، میں کب سے آپ لوگوں کو ڈھونڈ رہی ہوں ۔۔۔۔ابھی آپ لوگوں کی شاپنگ نہیں ہوئی کتنی دیر ہو گئی ہے اوپر سے مجھے بھوک بھی لگ گئی ہے ۔۔۔۔" زھرا اپنے گھر والوں کو کپڑے کی دکان میں شیشے سے دیکھتی اندر آ گئی اور ان کے پاس جاتی کہنے لگی ۔" کیا ، ہوا ہے"۔ بنتِ اس کو غصے میں دیکھتی خود ہی اندازہ لگاتی کہ کچھ ہوا ہے پوچھنے لگیں۔ یہ جانتے ہوئے ہوئے کہ وہ نہیں بتائے گی ۔زھرا کے مطابق کسی کو اپنی پریشانی بتانا ، یہ جانتے ہوئے کہ سامنے والا کچھ نہیں کر سکتا ، ہمدردی حاصل کرنا تھا ۔ اس سے بہتر اس سے پریشانی شیئر کرنا تھا جو اسے حل بھی کر سکے اور زھرا کے مطابق وہ اس کا رب تھا ۔جس کے بعد وہ لوگ اپنی پسند کی چیزیں خریدتے شاپ سے نکل کر کیفے کی جانب بڑھ گئے۔…..کیا کھاؤ گے عبدالرحمٰن ؟"۔ ازرا بیگم سامنے بیٹھے عبدالرحمٰن سے پوچھنے لگی۔جس کی سوچیں کہیں اور ہی پہنچی ہوئی تھی یا کہہ کچھ دور والے ٹیبل تک ۔۔۔۔۔"کیا کھائیں گی آپ شہزادی ؟" عامر صاحب زھرا سے سب سے پہلے پوچھنے لگے کیونکہ

Prev Next Page