Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 16 of 44 36% Completed ~4 min read

سفید شرٹ کے اوپر جینز کی نیلی جیکٹ اور نیلی پینٹ ڈالے ہوئے ایک ہاتھ میں گھڑی ڈالے سمندری گہری آنکھیں زمین پر ٹکائے گول سیڑھیاں پار کرتا نیچے آیا۔جو بلاشبہ بہت حسین تھا۔۔۔۔۔تم یہ کہہ سکتے ہو درانیز کے صرف کاروبار کے چرچے مشہور نہیں تھے بلکہ پورا خاندان اپنی وراثت میں ملنے والی لاجواب خوبصورتی سے بھی جانا جاتا تھا ۔اب کون جانے خوبصورتی کے پیچھے چھپے دل سیاہ تھے یا سفید ۔۔۔۔دونوں بھائی ڈائنگ ٹیبل پر آکر مخصوص نشستوں پر براجمان ہوئے ۔ہال میں خاموشی تھی کہ ہوا کو بھی احساس نہ ہوا چار لوگ مل کر بیٹھے ہیں ۔"عبدالرحمٰن میرا بچہ۔۔۔۔۔"جب آسیہ درانی ڈائننگ میں قدم رکھتی عبدالرحمٰن کو متوجہ کرتی کہنے لگی ۔عبدالرحمٰن ان کی جانب متوجہ ہوتے مسکرایا تھا ۔"کیسے ہو اب تم ؟ " وہ پوچھنے لگی تو احان بھی سمندر سی گہری اور سرد آنکھیں ان جانب بڑھاتا حیران ہوا گویا ان کے سوال پر حیران ہو ۔۔۔"ہممم۔۔۔۔۔فائن۔۔۔۔" وہ ایک گال پر ڈمپل نمایاں کرتا بولا تھا۔"ہمم۔۔۔۔ آئندہ اپنا خیال رکھنا ،ہمیں بہت عزیز ہو تم ۔۔۔۔" آسیہ بیگم مسکراتے ہوئے بولی تھی اور کیمر کے سامنے والی سربراہی کرسی پر براجمان ہوئیں ۔جب کیمر ان کو دیکھتا مصنوعی سہ مسکرا دیا ۔"کیمر تم نے سب تیاریاں کر لیں ہیں نہ۔۔۔۔۔ عبدالرحمٰن کی پڑھائی جلد ہی مکمل ہونے والی ہے ۔۔۔" ملازم آسیہ بیگم کی پلیٹ میں سالن ڈالنے لگی تو آسیہ بیگم اسے ہاتھ کے اشارے سے روکتی ہوئی کیمر سے کہنے لگی ۔"میں نے کاغذات بنوانے کی شروعات کر لی ہے۔۔۔۔" ملازم کیمر کی پلیٹ میں چاول ڈالنے لگا تھا جس کو بس کا اشارہ کرتے ہوئے کیمر کہنے لگا ۔"ہممم۔۔۔۔۔ تیاریوں میں کچھ کمی نہیں رہنی چاہیے، ہمارے عبدالرحمٰن کی Assumption ceremony (عہدہ سنبھالنے کی تقریب) کسی لحاظ سے کم نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔۔درانی گروپس کی یہ سرمنی ایسی ہونی چاہیے کہ پورا پاکستان یاد رکھے۔۔۔۔" آسیہ بیگم نوالہ منہ میں ڈالتا پوچھنے لگا ۔"ایسا ہی ہو گا آپ فکر نہ کریں۔۔۔۔ پورا پاکستان یاد رکھے گا ۔۔" کیمر درانی آسیہ بیگم کی تائید کرتے چہرے پر پروقار سی مسکراہٹ سجائے بولے تھے ۔کیمر درانی سینتالیس سالہ مرد تھے جو اپنی قدو قامت کی وجہ سے عمر سے کافی چھوٹے محسوس ہوتے تھے ۔یوں سمجھو وہاں بیٹھے دو لڑکوں کے بڑے بھائی معلوم ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔"کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔۔؟" کھانا کھاتے عبدالرحمٰن اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو احان اس کے پیچھے آتا پوچھنے لگا ۔احان انتہائی کم گو انسان تھا۔۔۔۔نہیں مغرور نہیں کم گو ۔۔۔اکثر ہی بات کرتا اور جب کرتا تو مختصر اور واضح"کچھ نہیں ۔۔۔۔بس ہلکی سی چوٹ لگی ہے ۔۔۔۔" عبدالرحمٰن اس کو جواب دینے لگا ۔" کدھر لگی ہے ؟" احان پوچھنے لگا تو عبدالرحمٰن چوٹ لگے کندھے کو آچکاتا اسے اشارے سے بتانے لگا ۔احان کندھے کو دیکھنے لگا ۔"یہاں ۔۔۔۔ "احان اس کی چوٹ کو انگلی سے دباتا پوچھنے لگا ۔"آہ۔۔۔"جب عبدالرحمٰن فوراً کندھا پیچھے کر گیا ۔"پاگل ہو کیا ۔۔۔۔میرا یقین نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔" عبدالرحمٰن اسے سر پر دوسرے ہاتھ سے انگلی سے چوٹ لگاتا کہنے لگا ۔" بلکل نہیں ۔۔۔۔"احان کہتا ہوا اپنے کمرے کی جانب مڑ گیا ۔۔۔۔رات کو جب ازرا عبدالرحمٰن کے کمرے میں آئی تو عبدالرحمٰن کا کمرہ خالی تھا ۔۔۔۔دوائی سائڈ ٹیبل پر ویسے کی ویسے موجود تھی ۔ڈاکٹر نے اسے ایک ہفتے کا آرام لکھ دیا تھا ۔۔۔۔مگر عبدالرحمٰن گھر ٹک کر بیٹھ جائے ایسا کہاں ہونے والا تھا۔"عبدالرحمٰن کدھر ہے ؟" ازرا باہر آتی گیٹ پر کھڑے چوکیدار سے پوچھنے لگی ۔"میڈم وہ تو اپنی بائیک لے کر کچھ دیر پہلے باہر نکلیں ہیں ۔۔۔۔۔" چوکیدار انہیں بتانے لگا تو ازرا اس کی بات پر شدد رہ گئی ۔"کوئی اتنا لاپرواہ کیسے ہو سکتا ہے مجھے تو سمجھ نہیں آتی یہ لڑکا آگے جا کر کیا کرے گا ۔۔۔۔" وہ غصے سے کہتی اندر بڑھی تھی جبکہ چوکیدار سر جھکائے صرف سنتا رہا ۔۔۔۔وہ تو اپنے بچاؤ پر شکر کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔روشنی آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔پردوں کے کناروں سے اندر سرکنے لگی۔۔۔۔۔زھرا نے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔۔تو چھت کچھ زیادہ بلند محسوس ہوئی—جیسے یہ کمرہ اُس کا ہو۔۔۔۔۔اور نہ بھی۔۔۔۔۔اس نے آس پاس نظریں گھمائیں ۔۔۔۔خوشبو تھی۔۔۔۔مگر اجنبی۔۔۔۔۔ریشمی چادر اُس کے ہاتھوں میں آئی۔۔۔۔وہ اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔۔وہ چادر پر ہاتھ چلانے لگی ۔۔۔۔جیسے کسی بات کی تصدیق چاہ رہی ہو ۔۔۔۔یہ خیال بے سبب ستانے

Prev Next Page