Chapter 1الرحمٰن الرحیم
تھا ۔" زھرا نے فوراً اس کا شک دور کیا تھا ۔" تو تم دونوں ہی بلیک کارڈ ہو ۔۔۔۔" زینب دونوں کو ستائشی نظروں سے دیکھتی مزاحیہ انداز میں بولی دونوں مسرا دی ۔"ہاں ۔۔۔۔بس یہی سمجھ لو ۔۔۔" زھرا بولی جبکہ فاطمہ بھی اس کی بات پر مسکرا دی ۔"اب تم بتاؤ۔۔۔" اب کی بار فاطمہ زینب سے پوچھنے لگی۔"میرے بابا ۔۔۔ایک جج ہیں ۔۔۔"زینب گہری سانس بھرتی بولی ۔" اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج ۔۔۔۔" زینب کا منہ تھوڑا اتر سہ گیا۔"غریب توتم بھی نہیں ہو ۔۔۔تمہیں کیا لگتا ہے جج ہو کر انسان غریب ہو سکتا ہے ۔" زھرا اس کو چھوٹی آنکھوں سے جانچتی بولی ۔" غریب نہیں ہو سکتا ہے بے ایمان تو ہوسکتا ہے میں جانتی ہوں اتنے پیسے ان کے پاس کہاں سے آتے ہیں اب کیا کروں کچھ کر بھی تو نہیں سکتی ۔۔۔کچھ کہتی ہوں تو فوراً خاموش کروا دیا جاتا ہے ماما تو کچھ بولتی ہی نہیں ہیں ۔۔۔۔میں ان سے بات کرنے کی بجائے اب خاموش رہنا زیادہ بہتر سمجھتی ہوں ۔۔۔" زینب اکھڑا سہ بولی ۔"کوئی بات نہیں ۔۔۔تم تو اپنی پوری کوشش کرتی ہو نہ زبان سے نہیں تو دل سے تو انصاف چاہتی ہو ویسے بھی حضرت محمد (ص) نے فرمایا جہاں نا انصافی دیکھو وہاں آواز اٹھاؤ اور آواز نہ اٹھا سکو تو دل میں اس کے خلاف ہو جاؤ ۔۔۔اور تم تو اپنے حصے کا کام کر رہی ہو ۔۔۔۔" فاطمہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے بولی ۔"ہمم۔۔۔۔۔" وہ بھی صرف ہاں میں سر ہلا گئی ۔"اچھا چلو چھوڑو اور کچھ بتاؤ ۔۔۔۔" زھرا بات کا موضوع بدلتے بولی جب فاطمہ کے موبائل پر بیل بجی۔۔۔یعنی اس کا ڈرائیور آ چکا تھا ۔"انکل آ گئے ہیں ابھی مجھے جانا ہو گا ہم کل پھر یہیں سے شروع کریں گے مزہ آیا تم لوگوں کو جان کر ۔۔۔۔" فاطمہ بیگ لیے کھڑی ہوتی بولی جب زھرا اور زینب اثبات میں سر ہلا گئیں۔"اللہ حافظ ۔۔۔کل ملتے ہیں۔۔۔" فاطمہ کہتی باہر کی جانب بڑھ گئی وہ دونوں مسکراتی اسے دیکھتی رہی ۔۔۔۔کچھ دیر بعد زینب کو بھی لینے کے لیے آ گئے ۔" تمہارے انکل نہیں آرہے تو میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں؟ " فاطمہ زھرا سے پوچھنے لگی جو ابھی تک انتظار میں ہی بیٹھی تھی ۔"فکر مت کرو وہ شاید ابھی آ جائیں گے ۔۔۔" زھرا اسے موبائل کو چیک کرتے جواب دینے لگی۔جہاں کوئی نوٹیفیکیشن نہیں تھا ۔" ایک بار ان سے کال کر کے پوچھ لو ۔۔۔میں یہیں کھڑی ہوں ۔" زینب زھرا سے بولی تو زھرا بھی اثبات میں سر ہلاتی کال ملانے لگی۔"السلام علیکم! انکل آپ آئے نہیں ہیں ابھی تک میں کب سے انتظار کر رہی ہوں۔۔۔" زھرا فون پر بات کرتے ہوئے بولی ۔" وعلیکم السلام! بیٹی وہ گاڑی تھوڑی سی خراب ہو گئی ہے میں ٹھیک کروا رہا ہوں تھوڑی دیر تک ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔میں نے خالد کو فون کر دیا ہے وہ آپ کو کی ے آ رہا ہے ۔۔۔" انکل بولے تو زھرا ٹھیک ہے کہتی فون رکھ گئی ۔"انکل کچھ ہی دیر میں آ جائیں گے تم فکر مت کرو چلی جاؤ ۔۔" زھرا زینب سے مسکرا کر بولی تھی ۔" تم sureہو نہ ۔۔۔کہتی ہو تو میں یہاں انتظار کر سکتی ہوں ۔۔۔" زینب اس سے کہنے لگی ۔تو زھرا مسکرا دی۔"ارے نہیں! تم چلی جاؤ انکل نے دوسرے انکل کو فون کر دیا ہے۔۔۔۔۔" زھرا بولی ۔"پھر سے دیکھ لو ۔۔۔" زینب پھر بولی ۔" ہاں دیکھ لیا اور سوچ بھی لیا ۔۔۔" زھرا سنجیدگی سے گویا ہوئی۔"کچھ بھی ہو تو مجھے کال کر لینا ۔۔۔۔" زینب اس کو سختی سے تاکید کرتی بولی اور چلی گئی ۔زھرا اپنی مستی میں موبائل چلا رہی تھی جب اس کے پاس کوئی آ بیٹھا تھا ۔اس نے اتنا غور نہیں کیا تھا۔وہ اپنی مستی میں ہی رہی تھی۔"ہائے شہزادی صاحبہ ۔۔۔۔" جب اسے قریب سے آواز آئی تھی اسی ہیزل گرین آنکھوں والے کی بھاری مردانہ آواز ۔۔۔اس نے فوراً سے نظروں کا رخ بدلا اور اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی ۔وہ لمبے بالوں کو کھلا چھوڑے جو پیچھے کی طرف ایک خوبصورتی سے سیٹ کیے گئے تھے اور ایک ہالف بازوؤں والی گول گلے والی بلیک شرٹ ساتھ ہی بلیک پھٹی ہوئی کھلی سی پینٹ ڈالے