Chapter 1الرحمٰن الرحیم
گلہ کرتا ہے ۔۔۔۔جس کی وجہ سے وہ اتنا دباؤ میں آ جاتا ہے کہ نہ اسے وسعا نظر آتی ہے اور نہ ہی یسر یعنی آسانی وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ اس کو سہنے کی وسعت پہلے سے موجود ہوتی ہے اور یہ بھی کہ ہر مصیبت کے ساتھ آسانیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔۔۔"فاطمہ نے اس کی بات کو وضاحت میں ڈھالتے جواب دیا تھا ۔"تم تو بہت مضبوط ہو اور یقیناً تمہارا ایمان بھی بہت پختہ ہے ۔۔۔۔"زھرا اس کی بات سے متاثر ہوتی بولی تھی۔" وہ اس لیے کیونکہ میں فاطمہ الظاہرہ ہوں ، فاطمہ الظاہرہ کواس کا رب پسند کرتا ہے اور فاطمہ الظاہر ہ کو یہی کافی ہے " ۔ فاطمہ بہت اطمینان اور حوصلے سے فخریہ بولی ۔ جبکہ دونوں دوستیں مسکرا دیں ۔کیفے میں آتے وہ ایک خالی ٹیبل پر آ بیٹھی جب زھرا تینوں سے ان کی مرضی کی چیزیں پوچھتی لانے کے لیے چلی گئی۔"آپ غلط جگہ پر بیٹھی ہیں مس ؟" زھرا گئی تو وہاں ایک ٹولا آتا بولا ۔جن میں ہیزل گرین آنکھوں والا مسٹر ہینڈسم بھی موجود تھا ۔زینب اور فاطمہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگی ۔"کیوں ؟ " فاطمہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی بولی ۔ساتھ زینب بھی کھڑی ہو چکی تھی ۔"کیونکہ یہ ہمارا ٹیبل ہے ۔۔۔" ان میں موجود درمیانی رنگت والا لڑکا زین بڑے ہی غیر آرام دہ طریقے سے بولا ۔"پھر کیا تماشہ لگا رکھا ہے یہاں ؟" جب انہیں پیچھے سے آواز آئی پورا ٹولا مڑا تو زھرا ہاتھ میں کچھ چیزیں پکڑے ہوئے تھی ۔زین کی نظروں نے فوراً عبدالرحمٰن کا تعاقب کیا ۔جبکہ عبدالرحمٰن کے چہرے پر ایک دلچسپ مسکراہٹ نمایاں ہوئی ۔آس پاس کے سٹوڈنٹس ان کی طرف متوجہ ہوچکے تھے یقیناً کچھ دلچسپ ہونے والا تھا ۔"کیا مسئلہ ہے پھر سے تمہارا ؟" زھرا آگے آتی ٹیبل پر چیزیں پٹکنے والے انداز میں رکھتی پوچھنے لگی۔"آپ غلط جگہ پر بیٹھ گئی ہیں شہزادی صاحبہ ۔۔۔۔" ایک لڑکا انہی میں سے بولا تھا۔"کیوں ایسا کیا ہے اس جگہ میں؟" زھرا اسی بےخوف لہجے میں پوچھنے لگی۔"یہ ہمارا ٹیبل ہے۔۔۔ہم ہمیشہ یہیں بیٹھتے ہیں ۔" وہی لڑکا ان سے دوبارہ کہنے لگا ۔"کیوں یہ ٹیبل تمہاری جاگیر ہے؟۔۔۔۔ یہ لو بیٹھ گئی اب اٹھا کر دکھاؤ ۔۔۔" زھرا بے خوف و خطر بولی جب زینب اور فاطمہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی اور وہاں موجود سٹوڈنٹس بھی۔ سامنے موجود ٹولا اس کی بہادری پر حیران تھا جب کہ عبدالرحمٰن کے ایک گال پر ڈمپل نمایاں ہوا تھا ۔"آپ کا حکم سر آنکھوں پر شہزادی صاحبہ ہمارا سب کچھ آپ ہی تو ہے ۔۔۔جہاں مرضی بیٹھیں ۔۔۔۔ہم کہیں اور بیٹھ جائیں گےبس آپ غصہ نہ کریں۔۔۔۔" عبدالرحمٰن اپنی مسکراہٹ قائم رکھتا مہرون جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بڑے پرکشش انداز میں سر خم کرتے بولا ۔اس کے پونی میں قید بال اسے انتہائی پر کشش بنا رہے تھے مگر سامنے کھڑی شہزادی پر یہ جادو نہ کام تھا ۔"ان ہمم۔۔۔۔تمہاری کوئی چیز ہماری نہیں اور جو چیز ہماری ہے وہ تمہاری میراث نہیں ۔۔۔۔" وہ بڑے ہی بے فکر انداز میں بولی تھی جب عبدالرحمٰن کے دونوں ڈمپل نمایاں ہوئے جب وہ نرم ہونٹوں کو نیچے کی جانب کیے مسکراتا آنکھوں کو ایک انداز سے ستائشی طور پر ایک طرف موڑتا دوبارہ مسکراہٹ گہری کرتا وہاں سے چلا گیا اور اپنا ٹولا بھی ساتھ لے گیا ۔جو زھرا کو گھورنے میں مصروف تھے ۔جبکہ زھرا بھی انہیں موت دینے والی نظروں سے دیکھتی رہی ۔" ہم اسے اگنور بھی کر سکتے تھے ۔۔۔he could be dangerous…."فاطمہ زھرا کے ساتھ بیٹھتی بولی ۔"فکر مت کرو ۔۔۔وہ کچھ نہیں کرے گا ۔۔۔کچھ کیا تو سنمبھال لوں گی۔۔۔" زھرا اس کو دلاسہ دیتی بولی ۔" تمہیں کیسے پتہ وہ کچھ نہیں کرے گا ؟ اور بتاؤ تم کیسے سنبھالو گی ؟" فاطمہ اس سے پریشانی سے پوچھنے لگی ۔" فکر مت کرو ۔۔۔۔۔ ان جیسوں سے بہت بار نپٹی ہوں ۔۔۔" زھرا گہری سانس بھرتے پرانی یونیورسٹی کو یاد کرتی اس ٹولے کو دیکھتی بولی جو زور دار قہقےلگانے میں مگن تھا ۔"مگر مجھے ان لڑکوں سے بہت ڈر لگتا ہے بڑی وائبز آتی ہیں ۔۔۔" اب کی بار زینب روندو چہرہ بنائے بولی۔"فکر مت کرو کوئی کچھ بولے تو ایک زور دار تھپڑ مار دینا ۔۔۔۔"